نئی دہلی َ : وزیر اعظم نریندر مودی نے سابق نائب وزیر اعظم اور ’بھارت رتن‘ لال کرشن اڈوانی کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اڈوانی کی سیاسی زندگی سے جڑی یادیں تازہ کرتے ہوئے 1991 کے لوک سبھا انتخابات کا خاص طور پر ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اس وقت انہیں اڈوانی کے نامزدگی کاغذات تیار کرنے سے لے کر انتخابی مہم تک ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے اڈوانی کی سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی مضمون لکھا ہے، جس کا عنوان ’اڈوانی جی: ایک صدی کی جانب بڑھتا متاثر کن سفر‘ ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے اڈوانی کے گجرات سے تعلق، 1991 کے گاندھی نگر لوک سبھا انتخابات اور ایمرجنسی کے دوران جمہوریت کے تحفظ کے لیے ان کی جدوجہد کا ذکر کیا ہے۔
1991 میں گاندھی نگر سے انتخاب لڑنا گھر واپسی جیسا تھا
وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون میں 1991 کے لوک سبھا انتخابات کی یادیں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ لال کرشن اڈوانی دو لوک سبھا نشستوں سے انتخاب لڑیں گے، جن میں ایک نشست گاندھی نگر کی تھی۔ اڈوانی کا گجرات سے کافی پرانا تعلق رہا ہے، اس لیے یہاں سے انتخاب لڑنا ان کے لیے ایک طرح سے گھر واپسی جیسا تھا۔مودی کے مطابق تقسیم کے بعد اڈوانی کے والد کَچھ آ کر آباد ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ 1976 میں، جب ملک میں ایمرجنسی اپنے عروج پر تھی، اڈوانی گجرات سے راجیہ سبھا کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر گجرات سے ان کا تعلق کافی گہرا تھا۔
نامزدگی سے انتخابی مہم تک اڈوانی کے ساتھ رہے مودی
وزیر اعظم نے اس دور کو یاد کرتے ہوئے لکھا، ’’اس وقت میں بی جے پی کی تنظیم میں کام کر رہا تھا۔ مجھے اڈوانی جی کے نامزدگی کاغذات تیار کرنے سے لے کر پوری انتخابی مہم میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ گاندھی نگر کے لوگوں نے بھی اڈوانی کو بار بار بڑے فرق سے کامیاب بنا کر پارلیمنٹ بھیجا۔ مودی نے اس موقع کو اپنے لیے بھی خوش قسمتی قرار دیا کہ گاندھی نگر لوک سبھا حلقے کا ووٹر ہونے کی حیثیت سے انہیں کئی مرتبہ اڈوانی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملا۔وزیر اعظم نے اپنے مضمون میں اڈوانی کے اپنے پارلیمانی حلقے اور وہاں کے لوگوں کے تئیں لگاؤ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حلقے کے لوگوں کی فکر کرنا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کے تئیں ذمہ داری کا احساس رکھنا اڈوانی کی شخصیت کا اہم پہلو رہا ہے۔ ان کے مطابق عوامی نمائندگی کے اس انداز سے سبھی کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔
ایمرجنسی میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد
وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون میں ایمرجنسی کے دور کو اڈوانی کی زندگی کا ایک اہم موڑ قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ اس مشکل دور میں اڈوانی جمہوریت کو بچانے اور آئین کے تحفظ کی جدوجہد میں اگلی صف میں کھڑے رہے۔مودی کے مطابق ایمرجنسی کے دوران اڈوانی نے جو کچھ دیکھا، محسوس کیا اور تجربہ کیا، اس کی جھلک ان کی کتاب ’اے پرزنرز اسکریپ بک‘ (A Prisoner’s Scrap Book) میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔انہوں نے اس کتاب کے ایک باب ’اے ٹیل آف ٹو ایمرجنسیز‘ (A Tale of Two Emergencies) کا خاص طور پر ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے لکھا کہ اس باب میں اڈوانی نے جون 1975 میں ہندوستان میں شروع ہونے والے واقعات اور 1933 میں جرمنی میں ہٹلر کے اقتدار کے دوران پیش آنے والے واقعات کے درمیان حیرت انگیز مماثلتوں کو مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔اس طرح وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون کے ذریعے اڈوانی کے سیاسی سفر، گجرات سے ان کے پرانے تعلق، انتخابی مہم کے دوران اپنی یادوں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ان کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کو یاد کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نے سلامتی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا…
صدر آئزک ہرزوگ نے یاشر پارٹی کے رہنما کو حکومت سازی کی ذمہ داری سونپی،…
وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ کسانوں کی آنکھوں سے…
پولینڈ کے صدر کارول ناوروٹسکی نے اس بھیانک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے…
سی آر پی ایف بستر کے علاقے میں نکسل ازم کے خاتمے کی کارروائیوں میں…
مرکزی وزیر داخلہ اور امدادِ باہمی کے وزیر امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم…