نئی دہلی: وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعہ (13 فروری) کو ’سیوا تیرتھ‘ سے قوم کے نام خطاب کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے کے پس منظر اور اس کے نظریاتی مقصد کو تفصیل سے بیان کیا۔ اپنے خطاب میں وزیرِاعظم نے کہا کہ آج بھارت ایک نئے تاریخ ساز دور کا مشاہدہ کر رہا ہے، جہاں ملک نہ صرف پالیسیوں اور فیصلوں میں بلکہ اپنی شناخت اور علامتوں میں بھی غلامی کے اثرات سے آزاد ہو رہا ہے۔ سیوا تیرتھ میں منعقدہ اس پروگرام کے دوران وزیرِاعظم نے فوج، قومی خدمت، خود انحصار بھارت، قومی سلامتی اور ترقی یافتہ بھارت کے عزم پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آج ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر قدم مستقبل کی سمت متعین کر رہا ہے اور ہر فیصلہ 140 کروڑ عوام کی امیدوں سے جڑا ہوا ہے۔
ترقی یافتہ بھارت کا عزم
وزیرِاعظم مودی نے اپنے خطاب کا آغاز مذہبی اور ثقافتی حوالوں سے کرتے ہوئے کہا کہ شاستروں میں وجیا ایکادشی کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ اس دن جس عزم کے ساتھ آگے بڑھا جائے، اس میں کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم سب ترقی یافتہ بھارت کا عزم لے کر سیوا تیرتھ اور کرتویہ بھون میں داخل ہو رہے ہیں اور اس سفر میں ہمیں دیوی شکتی کی رہنمائی حاصل ہے۔
برطانوی دور کی عمارتوں پر تنقید
وزیرِاعظم نے پی ایم او کے ملازمین، افسران، انجینئروں اور مزدوروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک جیسی عمارتوں سے ملک کے لیے کئی اہم فیصلے لیے گئے، لیکن یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ عمارتیں برطانوی راج کی علامت تھیں۔ ان عمارتوں کا مقصد بھارت کو ذہنی اور انتظامی طور پر غلامی میں جکڑے رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رائسینا ہلز پر ان عمارتوں کی تعمیر اس لیے کی گئی تھی تاکہ وہ دیگر عمارتوں سے بلند رہیں اور اقتدار کی بالادستی کو ظاہر کریں۔ اس کے برعکس سیوا تیرتھ کا تصور زمین سے جڑا ہوا ہے، جو عوامی خدمت اور شفاف حکمرانی کی علامت ہے۔
140 کروڑ عوام کی خواہشات کا مرکز
وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ ساؤتھ اور نارتھ بلاک برطانوی حکمرانی کی سوچ کے تحت بنائے گئے تھے، جبکہ سیوا تیرتھ اور کرتویہ بھون جیسے نئے احاطے بھارتی عوام کی امنگوں اور خوابوں کو پورا کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب یہاں سے ہونے والے فیصلے کسی حکمران یا بادشاہ کی سوچ پر مبنی نہیں ہوں گے بلکہ 140 کروڑ بھارتیوں کی توقعات اور ضرورتوں کی عکاسی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ’امرت بھاؤنا‘ کے تحت آج سیوا تیرتھ اور کرتویہ بھون کو عوام کے لیے وقف کیا جا رہا ہے۔ 21ویں صدی کا پہلا ربع مکمل ہو چکا ہے اور اب ضروری ہے کہ ترقی یافتہ بھارت کا تصور صرف منصوبوں اور پالیسیوں تک محدود نہ رہے بلکہ ان عمارتوں میں بھی جھلکے جہاں سے ملک کا نظام چلایا جاتا ہے۔ یہ مقامات نہ صرف مؤثر ہوں بلکہ متاثر کن اور حوصلہ افزا بھی ہوں۔
لاجسٹک اخراجات میں کمی
وزیرِاعظم نے کہا کہ پہلے ہر روز نارتھ بلاک سے ساؤتھ بلاک تک 8 سے 10 ہزار ملازمین کی آمد و رفت پر بھاری لاجسٹک اخراجات آتے تھے۔ نئے احاطوں کے قیام سے یہ اخراجات کم ہوں گے، وقت بچے گا اور ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پرانی عمارتوں سے جڑی یادیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی اور وہاں سے ملک کو نئی سمت دینے والے کئی تاریخی فیصلے ہوئے، مگر وقت کے ساتھ تبدیلی ناگزیر ہے۔
نام بدلنے کے پیچھے نظریہ
وزیرِاعظم مودی نے واضح کیا کہ سرکاری مقامات کے نام بدلنے کا مقصد محض الفاظ کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا نظریاتی مفہوم پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات آزاد بھارت کی آزاد شناخت اور غلامی کی علامتوں سے نجات کی کوشش ہیں۔ نئے وزیرِاعظم دفتر کا نام ’سیوا تیرتھ‘ اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق خدمت کا جذبہ ہی بھارت کی روح اور شناخت ہے۔ یہ عمارتیں ہر لمحہ یاد دلائیں گی کہ حکمرانی کا اصل مطلب خدمت اور ذمہ داری کا مطلب مکمل سپردگی ہے۔ انہوں نے شاستروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سیوا پرمو دھرمہ‘ یعنی خدمت ہی سب سے بڑا دھرم ہے، اور یہی اصول حکومت اور وزیرِاعظم دفتر کے وژن کی بنیاد ہے۔
بھارت اصلاحات کی راہ پر
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِاعظم نے کہا کہ آج بھارت ’ریفارم ایکسپریس‘ پر سوار ہے، عالمی تعلقات میں نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، نئے تجارتی معاہدوں کے ذریعے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے اور جامع ترقی کے ہدف کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں سیوا تیرتھ اور کرتویہ بھون میں ہونے والا ہر کام، ہر فیصلہ اور ہر فائل ملک کے 140 کروڑ عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں حکومت نے ایک ایسا نظامِ حکمرانی اپنایا ہے جس میں ہر فیصلے کا مرکز شہری ہے۔ ’ناگرک دیوو بھَوَ‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ہماری انتظامی ثقافت کا بنیادی اصول ہے، اور ان نئی عمارتوں میں کام کرتے ہوئے اسی نظریے کو عملی شکل دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…