وزیر اعظم نریندر مودی نے فلپائن کے صدر ماکوس کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’’اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت اور فلپائن کی دوستی صرف ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ ایک مشترکہ مستقبل کا وعدہ ہے۔ وزیر اعظم مودی نے فلپائن کے صدر اور ان کے وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس سال بھارت اور فلپائن اپنے سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ منا رہے ہیں اور اس پس منظر میں یہ دورہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔‘‘ پی ایم مودی نے مزید کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات نسبتاً نئے ہیں، لیکن دونوں تہذیبوں کے درمیان رابطے صدیوں پرانے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’فلپائن کی رامائن ’مہارادیہ لوانا‘ ہمارے صدیوں پرانے ثقافتی روابط کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔‘‘
تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم
وزیر اعظم نے اس دوران یہ بھی اعلان کیا کہ بھارت اور فلپائن کے تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا درجہ دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ایک جامع ’’ایکشن پلان‘‘ بھی تیار کیا گیا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اسے مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ہم نے باہمی ترجیحی تجارتی معاہدے (Preferential Trade Agreement) کی سمت میں کام کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔‘‘ اس کے پی ایم مودی نے اپنے بیان میں سائنس، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، صحت، آٹوموبائل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں جاری تعاون کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ نئے سائنسی و تحقیقی معاہدے اس رفتار کو مزید تیز کریں گے۔ وزیر اعظم نے وارانسی میں واقع انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اس مرکز کا ذکر کیا جو کم گلیسیمک انڈیکس والے چاول پر تحقیق کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم ساتھ مل کر ذائقے اور صحت–دونوں پر کام کر رہے ہیں!‘‘
ڈیجیٹل، خلائی اور دفاعی شعبوں میں اشتراک
پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت، فلپائن میں ڈیجیٹل ڈیٹا کلاؤڈ انفراسٹرکچر کے قیام میں بھی تعاون فراہم کرے گا۔ ساتھ ہی خلائی شعبے میں ایک نئے معاہدے کی بھی نشان دہی کی گئی، جس سے دونوں ممالک کا اشتراک زمین سے خلا تک پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ دفاعی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے پی ایم مودی نے بتایا کہ بھارتی بحریہ کے تین جہاز اس وقت فلپائن میں ایک مشترکہ مشق میں حصہ لے رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا مظہر ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ’’میری ٹائم تعاون نہ صرف فطری ہے بلکہ آج کے حالات میں ضروری بھی ہے۔‘‘
سیاحت، ثقافت اور عوامی روابط میں فروغ
وزیر اعظم نے فلپائن کے اس فیصلے کو سراہا کہ بھارتی سیاحوں کو فلپائن میں ویزا فری داخلہ دیا جائے گا اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ بھارت بھی فلپائنی سیاحوں کو مفت ای ویزا فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس سال دہلی اور منیلا کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے پر بھی کام جاری ہے۔‘‘ ساتھ ہی پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت اور فلپائن دونوں انڈو-پیسفک خطے میں امن، سلامتی، خوش حالی اور قوانین پر مبنی عالمی نظام کے لیے پرعزم ہیں۔ انھوں نے فلپائن کی جانب سے پہلگام دہشت گرد حملے کی مذمت اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ساتھ کھڑے ہونے پر بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر کا اختتام ان پُر امید الفاظ کے ساتھ کیا کہ ’’بھارت اور فلپائن دوست ہیں، اپنے انتخاب سے؛ اور شراکت دار ہیں، اپنے مقدر سے۔ بحر ہند سے بحرالکاہل تک، ہمیں مشترکہ اقدار جوڑتی ہیں۔ ہماری دوستی صرف ماضی کی بات نہیں، بلکہ یہ مستقبل کا وعدہ ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…