گریٹر نوئیڈا (اتر پردیش): وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ایچ سی ایل–فاکسکون مشترکہ منصوبے ’’انڈیا چپ پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘ کے تحت قائم ہونے والے سیمی کنڈکٹر یونٹ کا سنگ بنیاد ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے رکھا۔ یہ منصوبہ یَمُنا ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (YEIDA) کے علاقے میں قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو چِپ سازی میں خود کفیل بننا ہے اور ملک میں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم تیزی سے تشکیل دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ اتر پردیش بھارت کے سیمی کنڈکٹر نظام کا ایک بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔
سیمی کنڈکٹر یونٹ سے ڈیزائن سینٹر اور اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جہاں بھی سیمی کنڈکٹر یونٹ قائم ہوتا ہے، وہاں ڈیزائن سینٹر وجود میں آتے ہیں، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم فروغ پاتا ہے اور جدت کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ انہوں نے دہلی میں منعقد ہونے والے گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس عالمی اجلاس میں دنیا نے بھارت کی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور وژن کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے لال قلعہ سے بھی کہا تھا کہ بھارت کے پاس رکنے یا سست ہونے کا وقت نہیں ہے۔ 2026 کے آغاز سے ہی بھارت نے ترقی کی رفتار تیز کر دی ہے اور یہ ہفتہ بھی ملک کے لیے تاریخی ثابت ہو رہا ہے۔‘‘
یہ دہائی بھارت کے لیے ’ٹیک ایڈ‘
وزیراعظم نے کہا کہ یہ دہائی بھارت کے لیے ’ٹیک ایڈ‘ ہے اور اس عرصے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ اکیسویں صدی میں ملک کی طاقت کی بنیاد بنیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اب تک اپنے سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت 10 فیبریکیشن اور پیکیجنگ منصوبوں کو منظوری دی ہے، جن میں سے چار یونٹ جلد ہی پیداوار شروع کرنے والے ہیں۔
3700 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری
بیان کے مطابق یہ آؤٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹ (OSAT) سہولت ’’انڈیا چِپ پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘ کے ذریعے سیمی کنڈکٹر اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ اور پیکیجنگ (ATMP) کی ترمیم شدہ اسکیم کے تحت قائم کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے میں 3700 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ موبائل فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ، آٹوموبائل، کنزیومر الیکٹرانکس اور دیگر آلات کے شعبوں کو مضبوط سہارا فراہم کرے گا۔
روزگار کے ہزاروں مواقع متوقع
اس سہولت کے قیام سے ہزاروں براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جن سے انجینئروں، ٹیکنیشنز اور پیشہ ور افراد کو فائدہ ہوگا، جبکہ معاون صنعتوں کی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔ ایچ سی ایل–فاکسکون کا یہ مشترکہ منصوبہ عالمی سیمی کنڈکٹر منظرنامے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے اور خود کفیل الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی تعمیر کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…