قومی

PM Modi pays tribute to Asha Bhosle: وزیراعظم نریندر مودی کا آشا بھوسلے کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار، کہا-’’نسلوں تک زندہ رہے گی ان کی آواز‘‘

نئی دہلی: بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے عظیم پلے بیک سنگر آشا بھوسلے کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہندوستان کی سب سے باوقار اور ہمہ جہت آوازوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ آشا بھوسلے کی وفات سے نہ صرف موسیقی کی دنیا بلکہ پورا ملک ایک عظیم فنکار سے محروم ہوگیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ان کی آواز میں ایک لازوال جادو تھا جو دلوں کو چھو جاتا تھا اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘‘ مودی نے مزید کہا کہ وہ آشا بھوسلے کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کے گیت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔ انہوں نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، مداحوں اور موسیقی سے محبت کرنے والوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

قومی سطح پر خراج عقیدت

آشا بھوسلے کے انتقال پر ملک بھر کی سیاسی قیادت نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے انہیں ’’میلوڈی کوئین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات موسیقی کی دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اسی طرح اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ان کے انتقال کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دیگر رہنماؤں میں اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اور مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فن کو خراج تحسین پیش کیا۔

موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ

92 سالہ آشا بھوسلے کا انتقال ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں ہوا، جہاں وہ شدید تھکن اور سینے کے انفیکشن کے باعث داخل تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی موت ملٹی آرگن فیلیور(جسم کے مختلف اعضا کا کام کرنا بند کردینا) کے سبب ہوئی۔ ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عوام کو 13 اپریل کو ان کی رہائش گاہ ’’کاسا گرانڈے‘‘ میں آخری دیدار کا موقع دیا جائے گا، جبکہ آخری رسومات ممبئی کے شیواجی پارک میں ادا کی جائیں گی۔

موسیقی کی دنیا میں لازوال خدمات

1933 میں پیدا ہونے والی آشا بھوسلے نے کم عمری میں اپنے کریئر کا آغاز کیا اور 1950 کی دہائی میں شہرت حاصل کی۔ انہوں نے مختلف زبانوں میں ہزاروں گانے ریکارڈ کیے اور ہر صنفِ موسیقی میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے مشہور نغموں میں ’’دل چیز کیا ہے، پیا تو اب تو آجا اور چُرا لیا ہے تم نے‘‘ جیسے لازوال گیت شامل ہیں، جو آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آشا بھوسلے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، پدم وبھوشن اور متعدد فلم فیئر و نیشنل ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 2011 میں انہیں گنیز ورلڈ ریکارڈز میں موسیقی کی تاریخ کی سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کرنے والی گلوکارہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ آشا بھوسلے کی وفات بلاشبہ ایک عہد کے خاتمے کے مترادف ہے، لیکن ان کی آواز، ان کے گیت اور ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کا کام نہ صرف بھارتی موسیقی کی شناخت ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے چاہنے والوں کے لیے ان کی یادیں اور نغمے ہمیشہ ایک قیمتی اثاثہ رہیں گے، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

8 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

8 hours ago