قومی

PM Modi NZ Visit: تجارت، دفاع، معدنیات، کھیل اور دیگر شعبوں میں تعاون پر زور، وزیر اعظم مودی نیوزی لینڈ کیوں پہنچے؟ دورے سے قبل ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان

تقریباً 40 سال بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا نیوزی لینڈ کا دورہ ہو رہا ہے، اس لیے اسے محض ایک رسمی سفارتی دورہ نہیں بلکہ اقتصادی اور تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے آکلینڈ پہنچنے سے قبل ہی نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے ایک بڑی تجارتی پیش رفت کا اعلان کیا، جس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

57 فیصد ٹیکس معاف اور 1.4 ارب کا بازار

وزیر اعظم لکسن نے اعلان کیا کہ مجوزہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) نافذ ہونے کے پہلے ہی دن سے نیوزی لینڈ کی بھارت کو برآمد کی جانے والی 57 فیصد مصنوعات پر درآمدی ٹیکس (ٹیرف) ختم کر دیا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ کو بھارت کی 1.4 ارب آبادی پر مشتمل وسیع صارفین کی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ بھارت سے نیوزی لینڈ بھیجی جانے والی تمام مصنوعات پر زیرو ڈیوٹی لاگو ہوگی۔ اس اقدام سے بھارتی برآمد کنندگان اور تاجروں کو بڑا فائدہ ملنے کی توقع ہے، جس سے تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔دونوں ممالک کے درمیان اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق متوقع ہے۔ یہ معدنیات بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں، اور اس تعاون کا مقصد ان شعبوں میں سپلائی کو متنوع بنانا ہے۔اس کے علاوہ دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی بات چیت ہوگی، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہو سکے۔

وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران نیوزی لینڈ کی معروف کھیل شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں عوامی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس سے قبل وزیر اعظم مودی آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے دورے بھی کر چکے ہیں، جہاں مختلف شعبوں میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔ نیوزی لینڈ کا یہ دورہ بھی بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور تزویراتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts