قومی

Tarique Rahman Swearing Ceremony: بنگلہ دیش نہیں جائیں گے وزیراعظم مودی، طارق رحمان کے حلف برداری میں اب لوک سبھا کے اسپیکر ہوں گے شامل

بنگلہ دیش کی سیاست میں اہم تبدیلی کے بعد، وزیراعظم نریندر مودی 17 فروری کو بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے نئے صدر طارق رحمان کے حلف برداری کے موقع پر وہاں نہیں جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم کی غیر حاضری میں بھارت کی نمائندگی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کریں گے، جو 17 فروری کو ڈھاکہ پہنچیں گے۔ ان کے ساتھ بھارتی وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم مسری بھی موجود رہیں گے۔ طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی، جس کے بعد ان کا حلف برداری کا پروگرام طے کیا گیا ہے۔ یہ تقریب بنگلہ دیش کی قومی پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوگی۔ حلف برداری کی تقریب میں کل 13 ممالک کو مدعو کیا گیا ہے، جن میں بھارت، چین، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔

بی این پی کی تاریخی جیت
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی قیادت والی عوامی لیگ حکومت کے بعد بی این پی نے نمایاں جیت حاصل کی۔ 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی اتحاد نے پارلیمنٹ کی 299 نشستوں میں سے 212 پر قبضہ کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ طارق رحمان، جو سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں، 9 جنوری کو بی این پی کے نئے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد پارٹی کی قیادت ان کے سپرد کی گئی۔ انتخابی نتائج میں جمعیتِ اسلامی اتحاد 77 نشستوں کے ساتھ دوسرے سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آیا۔

مودی کی طرف سے مبارکباد
بی این پی کی کامیابی کے بعد، وزیراعظم نریندر مودی نے طارق رحمان کو بذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر مبارکباد دی۔ اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ “بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کی فیصلہ کن جیت پر میں طارق رحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ جیت آپ کی قیادت میں بنگلہ دیش کی عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔ بھارت ایک جمہوری، ترقی پسند اور جامع بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ میں ہمارے باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرجوش ہوں”۔

واضح رہے کہ اس تقریب میں بھارت کی نمائندگی وزیراعظم کی عدم موجودگی میں لوک سبھا اسپیکر کریں گے، جو دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات اور پارلیمانی رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم اقدام ہے۔ بی این پی کی جیت اور طارق رحمان کے حلف برداری کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست میں نئی سیاسی سمت واضح طور پر سامنے آئی ہے، جو خطے کی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ حلف برداری نہ صرف بی این پی کی کامیابی کی توثیق ہے بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پارلیمانی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا ایک اہم موقع بھی پیش کرتی ہے۔ یہ خبر سیاسی، سفارتی اور علاقائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے اثرات خطے کے سیاسی توازن اور دو طرفہ تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Ram Mandir Donation Theft Case: رام مندر چڑھاوا چوری معاملہ، CCTV میں 105 واقعات ریکارڈ، SIT دو دن میں داخل کرے گی پہلی چارج شیٹ

ایودھیا رام مندر میں چڑھاوا کی مبینہ چوری کی تحقیقات میں بڑا انکشاف، سالیسٹر جنرل…

9 minutes ago

Priyanka Chaturvedi Parents PM Modi Meet: شیوسینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی کے والد سے ملے پی ایم مودی، برج خطے پر لکھی کتاب خود وصول کی

پرینکا چترویدی نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اپنا ذاتی وعدہ پورا، والدین…

30 minutes ago

Indore Pandharinath Road Collapse: یہ اندور ہے! ’صاف ستھرے شہر‘ میں اچانک دھنس گئی سڑک، بن گیا8 سے 9 فٹ گہرا گڑھا

پنڈھری ناتھ علاقے میں بدریناتھ مندر اور تھانے کے سامنے پیش آیا واقعہ، کوئی جانی…

43 minutes ago

IPL 2027: آئی پی ایل 2027 سے قبل 5 بار کی چیمپئن ٹیم کا بڑا فیصلہ، ظہیر خان بنے چنئی سپر کنگز کے نئے ہیڈ کوچ

چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…

1 hour ago