قومی

BRICS Summit 2026: وزیر اعظم مودی اور قزاقستان  کے صدر توکایف کی اہم ملاقات، برکس اجلاس میں ’نئی دہلی اعلامیہ‘ پر اتفاق

نئی دہلی میں جاری 18ویں برکس سربراہی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو قزاقستان  کے صدر قاسم ژومارت توکایف سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات کانفرنس سے الگ ہوئی، جس میں بھارت اور قزاقستان  سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران بھارت کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال، خارجہ سکریٹری وکرم مصری اور وزارت خارجہ میں مغربی امور کے سکریٹری سیبی جارج سمیت کئی سینئر حکام موجود رہے۔ ملاقات سے قبل وزیر اعظم مودی اور صدر توکایف نے گرمجوشی سے ایک دوسرے کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے توکایف کے ساتھ آئے وفد کے ارکان سے بھی ملاقات کی۔

بھارت میں ہو رہی ہے 18ویں برکس سربراہی کانفرنس

بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور اسی کے تحت نئی دہلی میں 2 روزہ 18ویں برکس سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں برکس کے رکن ممالک کے علاوہ شراکت دار ممالک اور توسیعی اجلاس کے لیے مدعو کیے گئے ممالک کے رہنما بھی شرکت کر رہے ہیں۔اتوار کی ملاقات سے قبل وزیر اعظم مودی اور صدر توکایف نے بھارت منڈپم میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ اجتماعی تصویر بھی بنوائی۔ اس ’خاندانی تصویر‘ میں برکس کے رکن ممالک، شراکت دار ممالک، توسیعی اجلاس کے لیے مدعو ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان شامل ہوئے۔

توکایف نے عشائیے میں بھی شرکت کی

قزاقستان  کے صدر ہفتے کو نئی دہلی پہنچے تھے۔ ہوائی اڈے پر مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سکانت مجومدار نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہفتے کی شام بھارت منڈپم میں وزیر اعظم مودی کی جانب سے منعقد خصوصی عشائیے میں شرکت کی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت برکس کے پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی تعاون کو مضبوط بنانے اور رکن ممالک کے درمیان بات چیت بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔

’نئی دہلی اعلامیہ‘ پر بنی اتفاق رائے

برکس سربراہی کانفرنس کے دوران ہفتے کو 11 رکن ممالک کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کو منظوری دی۔ اعلامیے میں بھارت کی صدارت اور توسیعی اجلاس و برکس پلس مذاکراتی اجلاس کے انعقاد کی ستائش کی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت کی صدارت نے بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی کو فروغ دینے کی سمت میں نئی رفتار پیدا کی ہے۔ رکن ممالک نے برکس کے جذبے کے تئیں اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ اس میں باہمی احترام، خودمختار مساوات، یکجہتی، جمہوریت، کشادگی، شمولیت، تعاون اور اتفاق رائے جیسے اصول شامل ہیں۔

برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک

فی الحال برکس میں برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، بھارت، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات رکن ممالک ہیں۔وہیں بیلاروس، کیوبا، بولیویا، قزاقستان ، ملائیشیا، نائجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، ازبکستان اور ویتنام برکس کے شراکت دار ممالک میں شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

CEC Suspension Plea: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم دینے سے کیا انکار

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن…

38 minutes ago

PM Modi welcomed Swiss President: پی ایم مودی اور سوئس صدر گائے پارملن کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں اہم ملاقات

صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے احاطے میں رسمی استقبال کیا گیا۔ صدر دروپدی مرمو…

44 minutes ago

INDIA Alliance:ملک اور یوپی کا مسلمان تمہاری ذاتی جاگیر نہیں، انڈیا اتحاد پر برسے اسدالدین اویسی

اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…

2 hours ago

RBI MPC’s three-day meeting begins: آر بی آئی کی ایم پی سی کی 3 روزہ میٹنگ شروع، 7 اکتوبر کو شرح سود پر ہوگا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…

3 hours ago