قومی

BRICS Summit Peace Talks: ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مودی، پوتن اور شی جن پنگ، ٹرمپ کی کوششوں پر پھر گیا پانی؟ پوتن نے امن کی پہل کا کیا خیر مقدم

وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات میں مدد کی پیشکش کی۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اتوار کو بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس پہل کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جنگ ختم کرانے کی مسلسل کوششیں اب تک کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔

سربراہی کانفرنس میں دوستی کا پیغام

کانفرنس کے پہلے دن وزیر اعظم نریندر مودی، شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کی مسکراتی ہوئی اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالے تصویر نے دنیا کو ایک مختلف پیغام دیا۔ یہ تصویر تینوں رہنماؤں کے درمیان تال میل اور بکھرتے عالمی نظام کے درمیان اتحاد کی علامت کے طور پر دیکھی گئی۔

روس نے بھارت کے کردار کا خیر مقدم کیا

ایک رپورٹ کے مطابق روس نے امن مذاکرات میں بھارت کی مدد کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ بھی پہلے سے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں اہم ہے جب روس 18 سے 20 ستمبر کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار پارلیمانی انتخابات کرانے جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں ’یونائیٹڈ رشیا‘ پارٹی کے غلبے کے امکانات سب سے زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔

بھارت نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت ظاہر کی

بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس ماسکو، تہران اور مغربی ممالک کے ساتھ بیک وقت بات چیت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

توانائی کی ضروریات کے لیے بھارت روس سے حاصل ہونے والے نسبتاً سستے تیل پر انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کئی مرتبہ روسی صدر پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم سے جی 20 تک امن کا پیغام

گزشتہ ماہ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس کے دوران وزیر اعظم مودی نے پوتن سے کہا تھا کہ ’لامتناہی جنگ‘ کو ’جنگ کے خاتمے‘ میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کا ہر گزرتا دن انسانیت کو پیچھے دھکیلتا ہے۔2022 میں بھی وزیر اعظم مودی نے پوتن سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ’’آج کا دور جنگ کا دور نہیں ہے۔‘‘

میامی میں ہوگی جی 20 سربراہی کانفرنس

رواں سال دسمبر میں میامی میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی پہلی بالمشافہ ملاقات ممکن ہے۔ زیلنسکی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر پوتن اس کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں تو وہ بھی وہاں جائیں گے۔

ٹرمپ کی تمام کوششیں بے اثر؟

چند روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی صدر پوتن سے فون پر بات کرکے جنگ ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سے امریکہ اور روس کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔اس کے بعد ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی سفارت کار اسٹیو وٹکوف ماسکو اور کیف بھی گئے تھے، لیکن 5 سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance:ملک اور یوپی کا مسلمان تمہاری ذاتی جاگیر نہیں، انڈیا اتحاد پر برسے اسدالدین اویسی

اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…

32 minutes ago

RBI MPC’s three-day meeting begins: آر بی آئی کی ایم پی سی کی 3 روزہ میٹنگ شروع، 7 اکتوبر کو شرح سود پر ہوگا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…

1 hour ago

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

3 hours ago