قومی

Iran-Israel War: کیا وزیر اعظم مودی کو پہلے ہی معلوم تھا کہ ایران پر کب ہوگا حملہ؟ اسرائیلی سفیر کا دعویٰ — پی ایم کی روانگی کے بعد دیے گئے احکامات

اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران اب بھارت کا نام بھی اس تنازع میں زیرِ بحث آتا دکھائی دے رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہفتہ 28 فروری کو اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا، جبکہ اس حملے سے صرف دو دن قبل بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ اختتام پذیر ہوا تھا۔ وزیر اعظم مودی 25 اور 26 فروری کو اسرائیل کے سرکاری دورے پر موجود تھے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے اور اس کے فوراً بعد اسرائیل و امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا تھا۔ تاہم بھارت میں اسرائیل کے سفیر رووین آزار نے میڈیا سے گفتگو کے دوران ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔

کیا وزیر اعظم مودی کو حملے کی پہلے سے اطلاع تھی؟

صحافیوں نے اسرائیلی سفیر رووین آزار سے ایران پر حالیہ حملوں کے حوالے سے اہم سوالات کیے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایران پر حملے وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے کے فوراً بعد ہوئے، کیا مودی کو اس کارروائی کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی؟ اس پر سفیر نے واضح کیا کہ بھارت ہماری صورتحال سے اچھی طرح واقف ضرور ہے، لیکن جب وزیر اعظم مودی اسرائیل میں موجود تھے، اس وقت خود اسرائیلی قیادت کو بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ فوجی آپریشن کو منظوری مل جائے گی۔ ان کے مطابق اس عسکری کارروائی کی حتمی منظوری 28 فروری کی صبح دی گئی، تب تک وزیر اعظم مودی اپنا دورہ مکمل کر کے بھارت واپس جا چکے تھے۔ بعد میں اسرائیل کے وزیر خارجہ نے بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ٹیلی فون پر بات کر کے موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ جے شنکر کے موقف پر بھی سوال

صحافیوں نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ردعمل کے بارے میں بھی سوال کیا۔ اس پر اسرائیلی سفیر نے بتایا کہ بھارت نے اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا ہے۔ بھارت کا ماننا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رہنا چاہیے اور مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا ضروری ہے۔سفیر کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری تھیں، تاہم امریکہ کو محسوس ہوا کہ ایران مذاکرات کے نام پر وقت حاصل کر رہا ہے اور طے شدہ شرائط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایران خطے میں اپنے حامی گروپوں کو مالی مدد، اسلحہ اور تکنیکی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ سفیر کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے 2027 تک اسرائیل کو ختم کرنے کی بات کی گئی تھی، جس کے تناظر میں اسرائیل نے جون میں کارروائی کی تھی۔ اب ایران کی جانب سے تعاون سے انکار کے بعد اسرائیل نے دوبارہ فوجی مہم شروع کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Home Minister Amit Shah: گریٹر نوئیڈا میں دو خفیہ ڈرگ لیب کا پردہ فاش، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گریٹر نوئیڈا میں دو خفیہ ڈرگ لیب کا پردہ…

8 hours ago

Non Bailable Warrant Against Rakhi Sawant: راکھی ساونت کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، کیا ہے 16 سال پرانا معاملہ؟

16 سال پرانے رئیلٹی شو تنازع اور خودکشی کے لیے اکسانے کے معاملے میں جھانسی…

8 hours ago

Kolkata Durga Puja Accident: کولکاتا میں درگا پوجا کے دوران پنڈال گرنے سے بھگدڑ، 17 افراد کی موت، پوجا کمیٹی پر لاپروائی کا الزام

درگا پوجا کی خوشیوں کے درمیان سپتمی کی شام شمالی کولکاتا کے چورباگان سروجنین پوجا…

8 hours ago

Air India Flights: سعودی عرب جانے والی ایئر انڈیا کی پروازیں 24 اکتوبر تک منسوخ، حوثی باغیوں کی دھمکی کے بعد فیصلہ

ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا، ’’موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایئر انڈیا اور…

9 hours ago