قومی

Electricity Supply Terminated: نوئیڈا کے ارون وہار میں سینکڑوں گھروں کی بجلی اچانک منقطع، پیشگی اطلاع نہ دینے کا الزام، یو پی پی سی ایل نے کی الزامات کی تردید

نوئیڈا کے سیکٹر 28، 29 اور 37 پر مشتمل علاقے ارون وہار کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی پی سی ایل) نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے تقریباً 300 سے 400 گھروں کی بجلی منقطع کر دی۔ رہائشیوں کے مطابق بجلی کی بندش ہفتہ کی دوپہر تقریباً 3 بجے شروع ہوئی اور رات گئے تک جاری رہی، جس کے باعث شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اچانک بجلی بند ہونے سے گھروں میں موجود بزرگوں اور بچوں کو شدید مشکلات پیش آئیں۔ کئی مکینوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پری پیڈ بجلی اکاؤنٹس میں وافر بیلنس موجود تھا، اس لیے سپلائی منقطع کیے جانے کی وجہ کم بیلنس نہیں ہو سکتی۔ متاثرہ افراد وضاحت اور بجلی کی بحالی کے مطالبے کے لیے سیکٹر 29 کے مقامی پاور ہاؤس بھی پہنچے۔

آر ڈبلیو اے چیئرمین کا موقف

ارون وہار ریزیڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن (آر ڈبلیو اے) کے چیئرمین پرشانت گپتا نے بتایا کہ بجلی کی سپلائی رات دیر گئے بحال کی گئی۔ ان کے مطابق یہ معمول کی لوڈشیڈنگ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر مکینوں نے چار سے پانچ گھنٹے تک انورٹر بیک اپ پر گزارا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سپلائی باقاعدہ طور پر منقطع کی گئی تھی۔

یو پی پی سی ایل کی تردید

دوسری جانب اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے حکام نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام رہائشیوں کی بجلی بند نہیں کی گئی تھی۔ نوئیڈا الیکٹرک اربن ڈسٹری بیوشن سرکل کے سپرنٹنڈنگ انجینئر رتیش آنند کے مطابق صرف اُن صارفین کی سپلائی منقطع کی گئی جن کے پری پیڈ اکاؤنٹس میں منفی بیلنس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ری چارج کے لیے متعدد یاددہانیاں بھیجی گئی تھیں اور عدم ادائیگی کی صورت میں سسٹم خودکار طور پر سپلائی بند کر دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے ہی صارف اکاؤنٹ ری چارج کرتا ہے، بجلی خود بخود بحال ہو جاتی ہے اور کسی دستی مداخلت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تکنیکی خرابی یا بقایاجات کا معاملہ؟

کچھ رہائشیوں نے شبہ ظاہر کیا کہ کئی متاثرہ گھروں کے اکاؤنٹس میں مناسب بیلنس موجود تھا۔ ان کے مطابق بعد میں حکام نے اس واقعے کو پری پیڈ نظام سے جڑی تکنیکی خرابی قرار دیا۔ آر ڈبلیو اے نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ محکمہ مکمل شفافیت کو یقینی بنائے اور آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے بروقت اور واضح اطلاع رسانی کا نظام وضع کرے۔ اس واقعے کے بعد شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کی جوابدہی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مکینوں نے واقعے کی مکمل جانچ اور واضح مواصلاتی طریقہ کار اپنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صارفین کو اچانک تعطل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Ganesh Idol Waste Turned Into Study Tables: مہاراشٹر میں گنیش مورتیوں کے کچرے سے بچوں کے لیے اسٹڈی ٹیبل تیار

اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…

55 minutes ago

Woman arrested in Bajhang: نیپال میں خاتون گرفتار، کتے کو پل سے ندیمیں پھینکنے کی ویڈیو وائرل

وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…

1 hour ago

Explosion in Riyadh: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دھماکے، کئی پروازیں تاخیر کا شکار، فضائی حملے کا الرٹ

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…

2 hours ago

Iran US War: ایران نے امریکہ کے سامنے رکھیں 7 شرائط، نہ مانی تو ہوگی فیصلہ کن جنگ

رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور…

3 hours ago

Uniform Civil Code: یو سی سی کے حق میں جیتن رام مانجھی، بولے- قانون کی نظر میں سب برابر ہیں

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…

4 hours ago