قومی

PM Invited Australian Business Leaders: وزیراعظم نریندر مودی نے آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو دی بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت، میلبورن میں بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم سے خطاب

میلبورن: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے اقتصادی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور توانائی کے بحران کے دور میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہیں۔ بھارت-آسٹریلیا سی ای او فورم کے اقتصادی روڈ میپ بزنس ریسیپشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آسٹریلوی صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو مینوفیکچرنگ، صاف توانائی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل معیشت، بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم شعبوں میں بھارت کی ترقی کا حصہ بننے کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2022 میں ریکارڈ مدت میں طے پانے والے بھارت-آسٹریلیا اقتصادی تعاون و تجارتی معاہدے (ECTA) نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے نفاذ کے بعد آسٹریلیا کو بھارت کی برآمدات دوگنی ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک ایک جامع اقتصادی تعاون کے معاہدے کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں، جس سے سرمایہ کاری اور اختراعات کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

صاف توانائی، انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اپیل

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت ہائیڈرو پاور منصوبوں، گرین ہائیڈروجن، سولر ماڈیولز اور ونڈ انرجی کے آلات کی تیاری کے لیے مضبوط مینوفیکچرنگ نظام قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے 2030 تک 500 گیگا واٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے اور 2070 تک نیٹ زیرو اخراج کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی تکنیکی مہارت، مالی وسائل اور یورینیم سمیت قدرتی ذخائر بھارت کے توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ بھارت نے حال ہی میں نجی شعبے کے لیے جوہری توانائی کا دروازہ کھولا ہے اور 2047 تک 100 گیگا واٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے آسٹریلوی سرمایہ کاروں کو بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، شاہراہوں، ریلوے اور شہری ترقی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں روزانہ تقریباً 34 کلومیٹر قومی شاہراہیں اور 8 کلومیٹر سے زائد ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے، جو ترقی کی رفتار، وسعت اور استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک اسٹیل کے شعبے میں پہلے ہی مضبوط شراکت دار ہیں اور اب کم کاربن ایلومینیم، گرین آئرن اور ماحول دوست مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی میں بھی مشترکہ کام کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تعلیم، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری میں نئی شراکت داری کی تجویز

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے اے آئی مشن، کوانٹم مشن اور سیمی کنڈکٹر پروگرام کے لیے 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے شعبوں میں عالمی سطح کے حل تیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کے بڑے پنشن فنڈز کو بھی بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سرمایہ کاروں کے سرمائے کو محض سرمایہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے اعتماد کی امانت سمجھتا ہے، اس لیے ملک محفوظ، مستحکم اور پائیدار سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ تعلیم اور ہنرمندی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈیکن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف وولونگونگ پہلے ہی گجرات کی گفٹ سٹی (GIFT City) میں اپنے کیمپس قائم کر چکی ہیں، جو بھارت پر ان کے اعتماد کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کے تبادلوں کو صرف تعلیمی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ٹیلنٹ پارٹنرشپ میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت-آسٹریلیا شراکت داری صرف دونوں ممالک کے دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ریاستوں، شہروں، جامعات، صنعتوں اور مختلف شعبوں کے درمیان براہِ راست تعاون کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ریاست بہ ریاست اور شعبہ بہ شعبہ نئی شراکت داریوں کی نشاندہی کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago