قومی

PM Modi hails addition of Deepavali to UNESCO: وزیراعظم نریندر مودی نے دیوالی کو یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیے جانے کا کیا خیرمقدم

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز دیوالی (دیپاولی) تہوار کو یونیسکو کے Intangible Heritage List (غیر مادی ثقافتی ورثہ کی فہرست) میں شامل کیے جانے پر گہرے مسرت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ تہوار صدیوں سے بھارت کی تہذیب، ثقافت اور روحانی اقدار سے جڑا ہوا ہے اور اس فیصلے سے دنیا بھر میں دیوالی کی شناخت مزید مضبوط ہوگی۔ وزیراعظم مودی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا: ’’انڈیا اور دنیا بھر کے لوگ بے حد مسرور ہیں۔ ہمارے لیے دیپاولی ہماری تہذیب اور ہمارے اخلاقی نظام کی روح ہے۔ یہ روشنی اور راست روی کا استعارہ ہے۔ دیپاولی کا UNESCO کی لسٹ میں شامل ہونا اس تہوار کی عالمی مقبولیت کو مزید بڑھائے گا۔ پربھو شری رام کے آدرش ہمیشہ کے لیے ہماری رہنمائی کرتے رہیں۔‘‘

وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا ردعمل

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی دیوالی کے UNESCO کی Intangible Cultural Heritage of Humanity فہرست میں شامل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ دیوالی کی مذہبی، ثقافتی اور روحانی اہمیت کا اعتراف ہے، جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

UNESCO کا بیان اور دیوالی کی تعریف

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ UNESCO نے باقاعدہ طور پر دیپاولی کو اپنی عالمی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

UNESCO نے اپنی ویب سائٹ پر دیوالی کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’دیپاولی، جسے دیوالی بھی کہا جاتا ہے، روشنیوں کا تہوار ہے جسے بھارت میں مختلف برادریاں ہر سال مناتی ہیں۔ یہ سال کی آخری فصل اور نئے سال و نئے موسم کے آغاز کی علامت ہے۔ قمری کیلنڈر کے مطابق یہ تہوار اکتوبر یا نومبر کی نئی چاند رات کو منایا جاتا ہے اور کئی دن تک جاری رہتا ہے۔ یہ روشنی کی اندھیرے پر اور نیکی کی بدی پر فتح کی علامت ہے۔ لوگ اس موقع پر گھروں اور عوامی مقامات کی صفائی اور تزئین و آرائش کرتے ہیں، چراغاں کرتے ہیں، آتش بازی کرتے ہیں اور خوشحالی و نئی شروعات کی دعائیں مانگتے ہیں۔‘‘

بھارت کے دیگر ورثے جو فہرست میں شامل ہیں

دیوالی سے پہلے بھی کئی بھارتی ثقافتی عناصر UNESCO کی غیر مادی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہو چکے ہیں، جن میں شامل ہیں:

رام لیلا (2008)

نوروز (2024)

گربا—گجرات (2023)

دُرگا پوجا—کلکتہ (2021)

کمبھ میلہ (2017)

یوگا (2016)

تھتیروں کا روایتی پیتل اور تانبے کا ہنر—جندیالہ گرو، پنجاب (2014)

غیر مادی ثقافتی ورثہ کیا ہے؟

یونیسکو کے مطابق غیر مادی ثقافتی ورثہ ان روایات، رسوم، علم، فنون، اظہار، دستکاری اور سماجی عادات پر مشتمل ہوتا ہے جو کسی معاشرے کی شناخت کا حصہ ہوں اور نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ یہ ورثہ سماجی تبدیلیوں اور گلوبلائزیشن کے باوجود ثقافتی تنوع اور شناخت کو مستحکم رکھتا ہے۔ یونیسکو نے اس ورثے کے تحفظ کے لئے 2003 کا کنونشن 17 اکتوبر 2003 کو پیرس میں اپنی 32ویں جنرل کانفرنس کے دوران منظور کیا تھا، تاکہ ان ثقافتی روایات اور فنون کو بچایا جا سکے جو محدود وسائل اور تیز سماجی تبدیلیوں کے سبب خطرے میں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP New Congress President: آرادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود ورکنگ پریذیڈنٹ مقرر

2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس کا بڑا تنظیمی فیصلہ، دیویندر نشاد اور آلوک…

3 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

13 minutes ago