نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک میں ایندھن اور بجلی کی بچت کے لیے کی گئی اپیل کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اتر پردیش سے لے کر مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر تک وزراء، اعلیٰ افسران اور جج صاحبان نے اپنی روزمرہ زندگی میں کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے سرکاری اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں کمی شروع کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ملک کے بااثر لیڈر عوامی ٹرانسپورٹ اور متبادل توانائی کے استعمال کو عملی طور پر فروغ دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے لیڈر جے پی نڈا نے اپنے سرکاری قافلوں میں شامل گاڑیوں کی تعداد تقریباً پچاس فیصد کم کر دی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف ایندھن کی بچت کرنا ہے بلکہ عوام کو بھی یہ پیغام دینا ہے کہ سادگی اور ذمہ داری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے بھی ایک منفرد مثال پیش کی۔ وہ ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے پہلے میٹرو ٹرین کے ذریعے پہنچے اور بعد میں ای رکشہ کا استعمال کرتے ہوئے اسکول گئے۔ ان کے اس اقدام کو عوامی ٹرانسپورٹ کے فروغ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مدھیہ پردیش میں بھی اس مہم کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ موہن یادو، جنہیں زیڈ پلس سکیورٹی حاصل ہے، اب تیرہ گاڑیوں کے بجائے صرف آٹھ گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ سفر کریں گے۔ اسی ریاست میں ہائی کورٹ کے جج جسٹس ڈی ڈی بنسل اس وقت سرخیوں میں آ گئے جب وہ سائیکل چلاتے ہوئے عدالت پہنچے۔ ان کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور عوام نے اس اقدام کو ماحول دوست سوچ اور سادگی کی بہترین مثال قرار دیا۔ مدھیہ پردیش کے توانائی وزیر پردیومن سنگھ تومر بھی سرکاری رہائش گاہ سے دفتر تک ای اسکوٹر پر جاتے ہوئے نظر آئے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب اعلیٰ عہدوں پر موجود افراد خود ایسے اقدامات کریں گے تو عوام میں بھی شعور پیدا ہوگا اور ایندھن کی غیر ضروری کھپت میں کمی آئے گی۔
اتر پردیش حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے ہیں۔ ریاستی حکومت نے وزراء اور سرکاری افسران کے لیے ہفتے میں ایک دن عوامی ٹرانسپورٹ یا میٹرو بس کے استعمال کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ دفاتر کو ہفتے میں دو دن ”ورک فرام ہوم“ اختیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم ہو اور پیٹرول و ڈیزل کی کھپت میں کمی لائی جا سکے۔ کئی سرکاری اجلاس اب آن لائن یا ورچوئل انداز میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں بھی کفایت شعاری کی نئی مثال سامنے آئی ہے۔ ریاستی وزیر آشیش شیلار نے اپنا فرانس کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانز فلم فیسٹیول میں ذاتی طور پر شرکت کرنے کے بجائے آن لائن شامل ہوں گے تاکہ سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ عوام میں سادگی، ماحولیات کے تحفظ اور قومی مفاد کے لیے ذمہ دارانہ طرز زندگی اپنانے کا شعور بھی فروغ پائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور امریکی کمپنیوں پر کیا ہوگا اثر؟ موجودہ ویزا ہولڈرز اور…
ناگویا کے میزُوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں 20ویں ایشین گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب،…
آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…
صدر کے عہدے پر اے بی وی پی کے یش ڈباس کو 1,044 ووٹوں کی…
ایشین گیمز 2026 میں اتوار کو بھارت کے کئی اہم مقابلے، خواتین کرکٹ ٹیم کی…
کسٹمز کی ایئر انٹیلی جنس یونٹ نے خفیہ اطلاع اور مسافروں کی پروفائلنگ کی بنیاد…