کولکاتا: سیاست میں علامتیں، الفاظ اور اتفاقات اکثر بڑی تبدیلیوں کی کہانی رقم کرتے ہیں۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کے پہلے وزیراعلیٰ کی حلف برداری تقریب کے دوران بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کی عوام کے تئیں اظہارِ تشکر اور احترام کے طور پر اسٹیج پر نمن کیا۔ وزیراعظم مودی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا: ’’میں مغربی بنگال کی جن شکتی کو سلام کرتا ہوں۔‘‘ یہ محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ نہیں تھی بلکہ اس تاریخی عوامی مینڈیٹ کا اعتراف تھا، جس نے مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔
عوامی مینڈیٹ کے سامنے جھکے وزیراعظم
قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ سے لے کر حلف برداری کے اسٹیج تک ہمیشہ جمہوریت اور عوامی طاقت کا احترام کیا ہے اور اب مغربی بنگال کی عوام کے آشیرواد پر اظہار تشکر کیا۔ درحقیقت مغربی بنگال میں نئی حکومت کی تشکیل اور بی جے پی کے پہلے وزیراعلیٰ کا حلف لینا محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی سفر کا نتیجہ ہے۔ رابندرناتھ ٹیگور کی جینتی کے مقدس موقع پر شروع ہونے والی اس نئی سیاسی اننگز اور ایک ’’راشٹر سیوک‘‘ کے طور پر وزیراعظم کا پرنام، بنگال کی سیاست میں ایک یادگار منظر کے طور پر درج ہوگیا ہے۔
’’بہار کے بعد بنگال‘‘ کی حکمت عملی
بہار کے بعد اب مغربی بنگال میں بھی بی جے پی کے پہلے وزیراعلیٰ نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ اس تاریخی لمحے نے سیاسی مبصرین کو وزیر اعظم مودی کے اس بیان کی یاد دلادی، جو انہوں نے بہار انتخابات کے نتائج کے وقت دیا تھا۔ اس وقت انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ بہار کے نتائج نے بنگال کا راستہ کھول دیا ہے۔ آج ان کا وہ سیاسی اندازہ حقیقت میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور بنگال کے سیاسی قلعے میں نئی حکومت کا داخلہ ہوچکا ہے۔
ٹیگور جینتی پر اقتدار کی تبدیلی کا ’’بڑا پیغام‘‘
اس تاریخی حلف برداری تقریب کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب اس کی ٹائمنگ پر غور کیا جائے۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے مغربی بنگال کی جن شکتی کو سلام اور نئی حکومت کی تقریبِ حلف برداری، دونوں ہی رابندر جینتی کے مقدس دن منعقد ہوئے۔ بنگال کی ثقافتی شناخت اور شعور کی علامت گرو دیو رابندرناتھ ٹیگور کی سالگرہ کے دن اقتدار کی یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اور ثقافتی پیغام بھی مانی جا رہی ہے۔ یہ نئی حکومت کے اس عزم کو ثقافتی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش ہے، جسے انتخابات کے دوران ’’سونار بنگلہ‘‘ کے تصور کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ جمہوریت میں عوام کو ہی اصل طاقت مانا جاتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے عوامی مینڈیٹ کے سامنے نمن کر کے بنگال کی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ جمہوری کامیابی خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ عوامی طاقت کے سامنے سرنگوں رہتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…