نامور سماجی کارکن اور مزدور تحریک کے لیڈر ڈاکٹر باباصاحب پانڈورنگ ادھَو عرف بابا ادھَو پیر کے روز پونے میں 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے تک محروم طبقات، دلتوں، آدیواسیوں اور مزدور برادری کے حقوق کے لیے جدوجہد کے حوالے سے ایک مضبوط آواز رہے۔ ان کے انتقال سے ملک میں سماجی انصاف کی تحریک کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ان کی طبیعت تقریباً دو ہفتے قبل بگڑنے کے بعد انہیں ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ایڈوانس میڈیکل سپورٹ کے باوجود رات تقریباً 8:25 بجے دل کا دورہ پڑنے کے سبب ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹے ہیں۔
وزیر اعظم مودی کی جانب سے تعزیت
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بابا ادھَو کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’بابا ادھَو کو سماج کے مختلف طبقات کی خدمت کرنے اور خاص طور پر محروم طبقے کو مضبوط بنانے اور مزدوروں کی فلاح کے لیے ان کی کوششوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال پر دکھ ہوا۔ میری دعائیں ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کے ساتھ ہیں۔ اوم شانتی‘‘۔ مودی نے انہیں ’’سماجی انصاف کی تحریک کا قابل احترام ستون‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کے نظریات اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔
عدم تنظیم شدہ مزدوروں کے حقوق کے اہم علمبردار
بابا ادھَو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ان مزدوروں کے لیے وقف کیا جو منظم نہیں ہیں اور جنہیں اکثر استحصال کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے قلی، رکشہ ڈرائیوروں، تعمیراتی مزدوروں اور قلی طبقے کے لیے متعدد تحریکیں چلائیں۔ ’’قلی پنچایت‘‘ ان کی ایک بڑی کوشش تھی جس نے مزدوروں کو نہ صرف منظم کیا بلکہ انہیں اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی دیا۔ انہوں نے ’’ایک گاؤں، ایک پانی کی ٹنکی‘‘ جیسی اصلاحی مہمات کے ذریعے سماجی برائیوں اور طبقاتی امتیاز کے خلاف عملی اقدامات کیے۔
مہاراشٹر کے لیڈروں کا اظہارِ افسوس
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ دیوندر فڑنویس نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’بابا ادھَو کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے ہمیشہ کمزور اور غیر منظم طبقوں کے حقوق کے لیے بے خوف ہو کر لڑائی لڑی۔ قلی اور مزدوروں کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا‘‘۔ فڑنویس نے مزید کہا کہ ’’مہاراشٹر میں سماجی کارکنوں کی ایک عظیم روایت رہی ہے اور بابا ادھَو اس روایت کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک تھے‘‘۔ نائب وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بھی گہرا دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بابا ادھَو نے ’’قلی پنچایت‘‘ کے ذریعے مزدور طبقے کو نہ صرف یکجا کیا بلکہ انہیں عزتِ نفس کا احساس بھی دلایا۔ انہوں نے ’’ایک گاؤں، ایک پانی کی ٹنکی‘‘ جیسی انقلابی تحریک چلا کر سماجی برابری کی بنیاد مضبوط کی۔
سماجی انصاف کی ایک بڑی آواز خاموش
ڈاکٹر بابا ادھَو کی وفات سے سماجی انصاف اور مزدور تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۔ 90 برس سے زائد عمر کے باوجود وہ آخری دم تک سماجی جدوجہد میں سرگرم رہے۔ ان کا نام مہاراشٹر ہی نہیں پوری ہندوستانی سماجی تحریک میں ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔ انہیں ملک بھر کے لیڈر اور عوام خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…