نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری شدید جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کی بندش نے بھارت کی توانائی سلامتی کے حوالے سے خطرات بڑھا دیے ہیں، جس کے بعد پٹرول، ڈیزل، سی این جی اور ایل پی جی کی فراہمی کو لے کر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔اسی سنگین صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی نے بیرون ملک کے پانچ ملکی دورے سے واپسی کے فوراً بعد جمعرات کو سال 2026 کی پہلی مرکزی وزارتی کونسل کی ایک طویل ہنگامی میٹنگ طلب کی۔ ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں توانائی بحران، انتظامی اصلاحات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی نے میٹنگ کے دوران وزراء کو سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب ماضی کے بجائے مستقبل کے چیلنجز پر توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری تنازعات سے بچتے ہوئے صرف کام پر توجہ مرکوز کی جائے اور سرکاری فائلوں کو دفاتر میں التوا میں رکھنے کے بجائے فوری فیصلے کیے جائیں تاکہ کم وقت میں زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔دراصل بھارت اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ خام تیل اور ایل پی جی کی شکل میں درآمد کرتا ہے اور آبنائے ہرمز ان سپلائیز کا اہم عالمی راستہ سمجھی جاتی ہے۔ اس راستے کی بندش سے بھارت کی توانائی سلامتی پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے واضح کیا کہ عالمی حالات آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، اس لیے بھارت کو توانائی کے میدان میں تیزی سے خود کفیل بننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزراء کو ہدایت دی کہ روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دیا جائے، خاص طور پر بایو گیس کو ایل پی جی کے متبادل کے طور پر جنگی سطح پر آگے بڑھایا جائے۔
وزیر اعظم نے “وکست بھارت 2047” کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ملک کے لیے حکومت کا عزم ہے۔ انہوں نے مختلف وزارتوں بشمول زراعت، توانائی، محنت، خارجہ امور اور روڈ ٹرانسپورٹ کی پریزنٹیشنز کا جائزہ لینے کے بعد ہدایت دی کہ کسی بھی نئی پالیسی یا اصلاح سے عوام کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے اور تمام منصوبوں کا مقصد عام لوگوں کی زندگی آسان بنانا ہونا چاہیے۔میٹنگ کے بعد واضح اشارے ملے ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں توانائی سلامتی اور انتظامی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے فیصلے لے سکتی ہے۔ تمام وزارتوں کو زیر التوا کام فوری مکمل کرنے اور سرکاری عمل کو مزید آسان بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکومت مغربی ایشیا کے اس بحران کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے تاکہ ملک میں متبادل اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو تیزی سے فروغ دیا جا سکے اور مستقبل میں کسی عالمی جنگ یا بحران کے باوجود بھارت کی توانائی سپلائی متاثر نہ ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کو کلب کی چوتھی منزل سے نیچے پارکنگ ایریا تک…
آبنائے ہرمز کا یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیج فارس، بحیرہ احمر…
فائنل کا آغاز کم کم موہود کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے سیٹ میں…
دہلی-این سی آر اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ دنوں ہوئی بارش کے بعد…
’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…