بلغاریہ میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں رومین رادیف کی قیادت والے ”پروگریسیو بلغاریہ“ اتحاد نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اتحاد کو تقریباً 44.6 فیصد ووٹ ملے ہیں، جس کے بعد 240 رکنی پارلیمنٹ میں 135 سے زائد نشستیں حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ 1997 کے بعد پہلا موقع ہے جب کسی ایک اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے، جسے ملک کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے رومین رادیف کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ بھارت اور بلغاریہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے رومین رادیف کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔
بلغاریہ گزشتہ چند برسوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک میں متعدد مرتبہ انتخابات منعقد ہوئے، جس کے باعث حکومت سازی میں مشکلات پیدا ہوتی رہیں۔ تاہم رومین رادیف کی قیادت میں اتحاد کی واضح برتری نے سیاسی استحکام کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ رادیف نے اپنی کامیابی کو عوام کے اعتماد کی جیت قرار دیتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کرنے اور ملک میں مضبوط حکومت قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ رومین رادیف نے اپنی تقریر میں کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اب ان کی حکومت شفافیت اور ترقی کو اولین ترجیح دے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت اقتصادی اصلاحات، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔ ان کے مطابق یہ کامیابی صرف ایک سیاسی اتحاد کی نہیں بلکہ عوامی امیدوں کی کامیابی ہے۔
ماہرین کے مطابق رومین رادیف کی جیت کے بعد بلغاریہ کی خارجہ پالیسی میں بھی کچھ تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ رادیف یورپی یونین کی بعض پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات بھی کرتے رہے ہیں۔ تاہم بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط رہنے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی دفاع، تجارت اور سفارت کاری کے شعبوں میں تعاون جاری ہے۔
ادھر بلغاریہ کی نائب صدر ایلیانا ایوٹووا نے کہا کہ نئی پارلیمنٹ کا اجلاس 29 یا 30 اپریل کے آس پاس بلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد نئے ارکان کی فہرست جاری کی جائے گی۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے، تاہم ابتدائی نتائج رومین رادیف کے حق میں واضح اشارے دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نتائج برقرار رہے تو بلغاریہ میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم ہو سکے گی۔ اس کے ساتھ ہی بھارت اور بلغاریہ کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…