صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے چار لوگوں کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان میں سرکاری وکیل اجول دیو راؤ نکم، کیرالہ کے سینئر سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سی سدانندن ماسٹر، ہندوستان کے سابق خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا اور نامور تاریخ دان اور ماہر تعلیم میناکشی جین کے نام شامل ہیں۔ یہ نامزدگیاں پہلے سے نامزد ارکان کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہونے والی نشستوں کے پیش نظر کی گئی ہیں۔صدر مرمو نے ان لوگوں کو آئین کے آرٹیکل 80 (1) (a) کی شق (3) کے ذریعہ انہیں دیئے گئے اختیارات کے تحت راجیہ سبھا کے لئے منتخب کیا ہے۔
وہیں راجیہ سبھا کیلئے نامزد چاروں شخصیات کو وزیراعظم نریندر مودی نے مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے ایک سلسلہ وار ایکس پوسٹ میں چاروں شخصیات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے۔پی ایم مودی نے لکھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ڈاکٹر میناکشی جین کو صدرجمہوریہ نے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا ہے۔ انہوں نے خود کو ایک عالم، محقق اور مورخ کے طور پر ممتاز کیا ہے۔ تعلیم، ادب، تاریخ اور سیاسیات کے شعبوں میں ان کے کام نے علمی گفتگو کو نمایاں طور پر تقویت بخشی ہے۔ ان کی پارلیمانی مدت کے لیے نیک خواہشات۔
پی ایم مودی نے ایک دوسری ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ہرش وردھن شرنگلا نے ایک سفارت کار، دانشور اور اسٹریٹجک مفکر کے طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ برسوں کے دوران، انہوں نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں کلیدی شراکت کی ہے اور ہماری G20 صدارت میں بھی اہم رول نبھایا ہے۔ خوشی ہے کہ انہیں ہندوستان کے صدر نے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان کا منفرد نقطہ نظر پارلیمانی کارروائی کو بہت زیادہ تقویت بخشے گا۔
اپنے تیسرے پوسٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ سی سدانندن ماسٹر کی زندگی ہمت اور ناانصافی کے سامنے جھکنے سے انکار کا مظہر ہے۔ تشدد اور دھمکیاں قومی ترقی کی طرف ان کے جذبے کو کم نہیں کر سکتیں۔ بطور استاد اور سماجی کارکن ان کی کاوشیں بھی قابل ستائش ہیں۔ وہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے انتہائی پرجوش ہیں۔ راشٹرپتی کے ذریعہ راجیہ سبھا کے لئے نامزد کئے جانے پر انہیں مبارکباد۔ ایم پی کے طور پر ان کے کردار کے لیے نیک خواہشات۔
ایک اور پوسٹ میں پی ایم نے لکھا کہ اجول نکم کی قانونی میدان اور ہمارے آئین کے تئیں لگن مثالی ہے۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب وکیل رہے ہیں بلکہ اہم مقدمات میں انصاف کے حصول میں بھی سب سے آگے رہے ہیں۔ اپنے پورے قانونی کیریئر کے دوران، انہوں نے ہمیشہ آئینی اقدار کو مضبوط بنانے اور عام شہریوں کے ساتھ ہمیشہ عزت کے ساتھ پیش آنے کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان کے صدر نے انہیں راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان کی پارلیمانی اننگز کے لیے میری نیک خواہشات۔
بھارت ایکسپریس۔
فائنل کا آغاز کم کم موہود کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے سیٹ میں…
دہلی-این سی آر اور آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ دنوں ہوئی بارش کے بعد…
’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام میں سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی…
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…