قومی

PM Modi attacks Congress: وزیر اعظم مودی کا کانگریس پر حملہ، کہا- سیاسی فائدے کے لیے دراندازوں کے حوالے کر دی تھی آسام کی مٹی

کالیابور: وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے آسام میں عدم استحکام پیدا کیا اور ریاست کو تشدد کی آگ میں جھونک دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے صرف حکومتیں بنانے اور چند ووٹ حاصل کرنے کے لیے آسام کی مٹی دراندازوں کے حوالے کر دی تھی۔

اتوار کو وزیر اعظم مودی نے آسام میں کازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ کا سنگِ بنیاد رکھا اور دو نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس نے سیاسی فائدے کے لیے آسام میں بے چینی کو ہوا دی اور ریاست کو تشدد کی زد میں دھکیل دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد آسام کو بڑے چیلنجز کا سامنا تھا، لیکن کانگریس نے ان مسائل کے حل تلاش کرنے کے بجائے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جب اعتماد کی ضرورت تھی، تب کانگریس نے تقسیم کو بڑھایا؛ جب مکالمے کی ضرورت تھی، تب کانگریس نے نظرانداز کیا اور بات چیت کے راستے بند کر دیے۔ اور جب اپنے لوگوں کے زخم بھرنے اور آسام کے عوام کی خدمت کی ضرورت تھی، تب کانگریس دراندازوں کی آؤبھگت میں مصروف رہی۔

پی ایم مودی نے کہا کہ کانگریس آسام کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتی۔ کانگریس کے لوگوں کو غیر ملکی درانداز زیادہ پسند ہیں، کیونکہ وہ یہاں آ کر کانگریس کے پکے ووٹ بینک بن جاتے ہیں۔ اسی لیے کانگریس کے دورِ حکومت میں غیر ملکی درانداز آتے رہے، آسام کی لاکھوں بیگھہ زمین پر قبضہ کرتے رہے اور کانگریس کی حکومتیں ان کی مدد کرتی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم آسام کی فن، ثقافت اور شناخت کا احترام کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ آسام کا احترام کانگریس کے لوگوں کو پسند نہیں آتا۔ کانگریس نے بھوپن ہزاریکا جی کو بھارت رتن دینے کی مخالفت کی تھی۔ کانگریس کی کرناٹک حکومت کے ایک وزیر نے آسام میں سیمی کنڈکٹر یونٹ کی مخالفت بھی کی تھی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ شمال مشرق کی سب سے بڑی تکلیف ہمیشہ فاصلے کی رہی ہے—دلوں کے فاصلے اور مقامات کے فاصلے۔ دہائیوں تک یہاں کے لوگوں کو محسوس ہوتا رہا کہ ملک کی ترقی کہیں اور ہو رہی ہے اور وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کا اثر صرف معیشت پر نہیں بلکہ اعتماد پر بھی پڑا۔ اس احساس کو بدلنے کا کام بی جے پی نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن کی حکومت نے شمال مشرق کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ سڑکوں، ریلویز، ایئر ویز اور واٹر ویز کے ذریعے آسام کو جوڑنے کا کام بیک وقت شروع ہوا، جس کی کانگریس نے کبھی پروا نہیں کی۔ جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی تو آسام کو بہت کم—تقریباً 2000 کروڑ روپے—ریلوے بجٹ ملتا تھا۔ اب بی جے پی حکومت نے اسے بڑھا کر سالانہ تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

60 minutes ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

1 hour ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

2 hours ago