آسام: وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے حالیہ انتخابی جلسے میں روایتی آسامیا کپڑا ’گموسا‘ لہرانے کے بعد اس کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ تین روز قبل آسام میں منعقد ایک عوامی جلسے کے دوران وزیر اعظم مودی نے گموسا کو ہوا میں لہرا کر حاضرین کا خیرمقدم کیا تھا، جس کے بعد یہ روایتی کپڑا ایک بار پھر خبروں میں آ گیا اور مقامی بازاروں میں اس کی طلب بڑھنے لگی۔ آسام کی مقامی زبان میں اس روایتی کپڑے کو گموسا کہا جاتا ہے، جو آسامیا ثقافت میں احترام، محبت اور استقبال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ کپڑا ریاست کے مختلف علاقوں میں ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے اور مقامی بُنکر اسے روایتی ہتھ کرگھوں پر تیار کرتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے اس کے استعمال کے بعد اس دستکاری کو نئی پہچان ملی ہے اور بُنکروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید بڑھ گئی ہے۔
گوہاٹی میں رہنے والی مقامی بُنکر پھلیشوری میندھی ان خواتین میں شامل ہیں جو یہ گموسا تیار کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ ہتھ کرگھے پر کئی گھنٹے کام کر کے صرف دو گموسے تیار کر پاتی ہیں۔ ان کے مطابق اس کام سے ہونے والی آمدنی سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے ہیں اور ان کی بیٹی کی تعلیم بھی جاری ہے۔ پھلیشوری کی بیٹی ہمادری میندھی نے بتایا کہ وہ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ان کی تعلیم کا خرچ گموسا کی فروخت سے پورا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے گموسا استعمال کرنے کے بعد لوگوں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے اور اب انہیں زیادہ آرڈرز موصول ہو رہے ہیں۔
گموسا آسام کی ثقافت کا اہم حصہ ہے اور اسے خصوصی مواقع پر بطور تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔ شادی بیاہ، مذہبی تقریبات اور تہواروں کے دوران اس کا استعمال عام ہے۔ آسام میں کسی مہمان کا استقبال گموسا پیش کر کے کیا جاتا ہے، جسے احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گموسا کی ساخت عام طور پر سفید کپڑے پر سرخ رنگ کی کشیدہ کاری یا بارڈر کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ کپڑا روایتی طور پر کپاس یا ریشم سے تیار کیا جاتا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق گموسا کا استعمال قدیم آہوم حکمرانوں کے دور سے کیا جا رہا ہے اور یہ آسام کی ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ بِیہو تہوار کے دوران گموسا کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس موقع پر اسے ’بیہوان‘ کے طور پر اپنے عزیزوں اور دوستوں کو تحفے میں دیا جاتا ہے۔ یہ روایت آج بھی آسام کے دیہی علاقوں میں بڑی عقیدت کے ساتھ جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے استعمال کے بعد گموسا نہ صرف سیاسی جلسوں بلکہ عام لوگوں میں بھی مقبول ہو گیا ہے۔ اس سے مقامی ہنرمندوں کو معاشی فائدہ پہنچنے کی امید ہے اور روایتی دستکاری کو فروغ ملے گا۔ مقامی بُنکروں کا کہنا ہے کہ اگر اسی طرح گموسا کی مانگ بڑھتی رہی تو یہ آسام کی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک کپڑا نہیں بلکہ آسام کی ثقافت، محبت اور احترام کی علامت ہے، جسے اب قومی سطح پر نئی پہچان مل رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
’کافی ود کرن‘ میں رشمیکا مندانا اور وجے دیورکونڈا نے شادی اور نجی زندگی سے…
اتر پردیش میں ایس آئی آر مہم کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زائد ووٹروں کے…
کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لے کر کیمپس میں معمولات بحال…
دہلی پولیس کے بانڈ نوٹس کو نیہا بورا نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، رہائی…
ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہے، تشدد…
دہلی کے 700 سے زیادہ بازاروں میں کاروبار متاثر ہونے کا دعویٰ، ووٹ چوری معاملے…