کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر غیر معمولی انتخابی مہم چلائی، جس نے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔ پارٹی نے بڑے پیمانے پر ریلیوں، روڈ شوز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ووٹروں تک رسائی حاصل کی اور انتخابی منظرنامے کو یکسر بدلنے کی کوشش کی۔ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے 22 سے زائد دورے کیے، جن میں ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد 21 بڑے پروگرام شامل تھے۔ ان پروگراموں کے ذریعے ریاست کے 43 میں سے 41 تنظیمی اضلاع کا احاطہ کیا گیا۔ نوٹیفکیشن سے قبل کولکاتا میں ایک بڑی عوامی ریلی بھی منعقد ہوئی، جس میں لاکھوں افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا۔
وزیراعظم نے انتخابی مہم کے دوران 19 بڑی عوامی جلسوں سے خطاب کیا اور ہاوڑہ و کولکاتا میں دو بڑے روڈ شوز بھی کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جھارگرام میں دورے کے دوران مقامی دکان سے جھال مڑی کھا کر عوامی رابطے کا منفرد انداز اپنایا، جبکہ کولکاتا میں قیام کے دوران کشتی رانی بھی کی، جسے عوامی سطح پر خاصی توجہ ملی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور 40 سے زائد پروگراموں میں شرکت کی۔ ان کی قیادت میں 43 میں سے 39 تنظیمی اضلاع اور 57 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا گیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 29 عوامی جلسوں سے خطاب کیا اور 11 روڈ شوز کیے، جس سے پارٹی کی مہم کو مزید تقویت ملی۔
پارٹی کے قومی صدر سمیت دیگر مرکزی لیڈروں نے بھی مختلف حلقوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر 128 اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے پروگرام منعقد ہوئے۔ ان میں راجناتھ سنگھ، اسمرتی ایرانی، انوراگ ٹھاکر، ہیما مالنی، منوج تیواری، کنگنا رناوت اور روی کشن جیسے کئی نمایاں چہرے شامل رہے، جنہوں نے عوامی جلسوں کے ذریعے پارٹی کے حق میں ماحول بنانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی مغربی بنگال میں بھرپور مہم چلائی۔ ان میں یوگی آدتیہ ناتھ، ہمنت بسوا سرما، دیویندر فڑنویس اور دیگر لیڈروں نے مختلف حلقوں میں جلسوں اور روڈ شوز کے ذریعے پارٹی پیغام کو عام کیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بی جے پی نے اس بار مغربی بنگال میں اپنی پوری طاقت جھونک دی، جس میں مرکزی قیادت کی مسلسل موجودگی اور جارحانہ تشہیری حکمت عملی نمایاں رہی۔ پارٹی نے ہر سطح پر ووٹروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی، جس سے انتخابی مقابلہ نہایت دلچسپ اور سخت ہو گیا۔ یہ انتخابی مہم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بی جے پی مغربی بنگال میں اپنی سیاسی زمین مضبوط کرنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے اور آنے والے نتائج ریاست کی سیاست میں اہم تبدیلیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…
کے ٹی ایل اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ملبے سے کم از کم ایک…
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…