قومی

PM Modi Addresses Post-Budget Webinar: مرکزی بجٹ کے بعد ویبینار سے وزیراعظم مودی کا خطاب، ٹیکنالوجی، اصلاحات اور مالیاتی استحکام پر زور

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مرکزی بجٹ کے بعد منعقدہ اہم ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی، اصلاحات اور مضبوط مالیاتی نظام ہی بھارت کو ترقی یافتہ معیشت بنانے کی بنیاد فراہم کریں گے۔ ’’وکست بھارت کے لیے ٹیکنالوجی، اصلاحات اور مالیات‘‘ کے موضوع پر منعقد اس ویبینار میں صنعت، مالیاتی اداروں، پالیسی سازوں اور ماہرین اقتصادیات نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بجٹ کے بعد ویبینار منعقد کرنے کی ایک مضبوط روایت قائم ہوئی ہے، جس کا مقصد صرف اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے بجٹ کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہ ویبینار حکومت اور متعلقہ شعبوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر قومی بجٹ کا جائزہ قلیل مدتی پیمانوں پر لیا جاتا ہے، جیسے شیئر بازار کی حرکت یا ٹیکس تجاویز، لیکن حقیقت میں قومی بجٹ کوئی مختصر مدتی تجارتی دستاویز نہیں بلکہ ملک کی طویل مدتی ترقی کا پالیسی روڈ میپ ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ وہ بنیادی ڈھانچے کو کس حد تک مضبوط کرتا ہے، کاروبار میں آسانی پیدا کرتا ہے اور عوامی زندگی کو کس قدر سہل بناتا ہے۔

وزیراعظم مودی نے واضح کیا کہ کسی بھی بجٹ کو الگ تھلگ انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ قوم کی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بجٹ دراصل اس بڑے قومی ہدف کی طرف ایک قدم ہے جس کے تحت سال 2047 تک بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہر اصلاح، ہر مالیاتی تخصیص اور ہر پالیسی تبدیلی اسی طویل سفر کا حصہ ہے۔ انہوں نے ویبینار کے شرکاء سے اپیل کی کہ یہ اجلاس محض خیالات کے تبادلے تک محدود نہ رہے بلکہ عملی حکمت عملی تیار کرنے کا ذریعہ بنے۔ وزیراعظم کے مطابق صنعت، تعلیمی اداروں، پالیسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مشترکہ مشوروں سے منصوبوں کے نفاذ میں رفتار اور شفافیت دونوں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ گزر چکا ہے اور بھارت اس وقت ترقی کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں ملک نے معاشی لچک اور استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، جو مسلسل اصلاحات، بہتر حکمرانی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا نتیجہ ہے۔ حکومت نے انتظامی طریقہ کار کو آسان بنانے، کاروباری ماحول کو بہتر کرنے اور ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک آج بھی ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ پر گامزن ہے اور اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر عمل درآمد نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا اصل پیمانہ اعلانات نہیں بلکہ زمینی سطح پر ان کے نتائج ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے جدید نظاموں کے استعمال سے شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو اولین ترجیح دی ہے۔ شاہراہوں، ریلوے، بندرگاہوں، ڈیجیٹل نیٹ ورک اور توانائی کے نظام میں سرمایہ کاری نے معیشت کو نئی رفتار دی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق تقریباً گیارہ برس قبل سرکاری سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے بجٹ میں تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے مختص تھے، جو موجودہ بجٹ میں بڑھ کر بارہ لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نجی شعبے کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ بھی ترقیاتی منصوبوں میں فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے مالیاتی اداروں اور صنعتوں پر زور دیا کہ وہ جدید فنانسنگ ماڈلز اپنائیں اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائیں۔ ساتھ ہی منصوبوں کی منظوری، لاگت و فائدہ تجزیہ اور لائف سائیکل لاگت جیسے اصولوں کو ترجیح دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ تاخیر اور وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے نظام کو مزید آسان اور سرمایہ کار دوست بنانے کی سمت میں اقدامات کر رہی ہے۔ مالیاتی منڈیوں کو مستحکم بنانے کے لیے بانڈ مارکیٹ کو فعال بنانے اور طویل مدتی سرمایہ کے ذرائع کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈ مارکیٹ اصلاحات مستقبل کی معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، جس کے لیے شفافیت، مناسب لیکویڈیٹی اور خطرات کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صنعت اور مالیاتی ماہرین سے اپیل کی کہ عالمی بہترین تجربات سے سیکھتے ہوئے ٹھوس تجاویز پیش کریں تاکہ مالیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر حکومت، صنعت، مالیاتی اداروں اور تعلیمی شعبے کے درمیان ایک مشترکہ ’’ریفارم پارٹنرشپ چارٹر‘‘ تیار کرنے کی بھی تجویز پیش کی، جو ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی جانب اہم دستاویز ثابت ہو سکتی ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم مودی نے تمام متعلقہ فریقوں سے کہا کہ اب بجٹ پر صرف بحث کرنے کا وقت نہیں بلکہ اسے زمین پر تیزی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت، صنعت، مالیاتی ادارے اور اختراع کار مشترکہ طور پر کام کریں گے تو بجٹ کے اعلانات حقیقی کامیابیوں میں تبدیل ہوں گے اور ترقی یافتہ بھارت کا خواب جلد حقیقت بن سکے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

51 minutes ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

2 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

2 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

3 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

3 hours ago

PM Modi Chintan Shivir: سیوا تیرتھ میں وزرا کا ’مہامنتھن‘، پی ایم مودی کا 4 روزہ چنتن شِور شروع

وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…

4 hours ago