قومی

CJP’s Saurav Das on PM Modi’s ‘Gen-Z’ style post: وزیر اعظم مودی کی ‘جن زی’ انداز والی پوسٹ پر سی جے پی کے سورَو داس کا طنز، بولے: براہ کرم اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ عام زبان میں لکھیں

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے انداز پر سورَو داس نے سوال اٹھائے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے معاملے میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی تھی۔ اس میں انہوں نے نوجوانوں میں مقبول غیر رسمی زبان اور چھوٹے چھوٹے جملوں کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کی نئی اسکیم کی معلومات دی تھیں۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورَو داس نے وزیر اعظم کی پوسٹ کو ضرورت سے زیادہ ’جن زیڈ‘ انداز اپنانے کی کوشش قرار دیا اور اسے غیر آرام دہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اہم عہدوں پر فائز لوگوں کو عام اور ذمہ دارانہ زبان میں لکھنا چاہیے۔ پالیسیاں سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں، کم از کم تحریر کی سنجیدگی سے سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنی پوسٹ میں کیا لکھا تھا؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی پوسٹ میں سوال کیا تھا کہ کیا ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کو طاقت فراہم کرنے والی اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کرنا چاہیے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’’میں تو بالکل نہیں چاہتا۔‘‘وزیر اعظم نے لیتھیم، نکل اور کوبالٹ جیسی معدنیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ الیکٹرک گاڑیوں (ای وی)، بیٹری، الیکٹرانکس اور دفاعی شعبے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستان پروسیس شدہ معدنیات کے لیے بڑے پیمانے پر دوسرے ممالک پر منحصر ہے۔ اس انحصار کو کم کرنے کے لیے مرکزی کابینہ نے ایک نئی اسکیم کو منظوری دی ہے۔وزیر اعظم نے اس اسکیم کی اہم خصوصیات میں نئے کریٹیکل منرل پروسیسنگ پلانٹس قائم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کیپٹل سبسڈی دینا، ملک میں ویلیو ایڈیشن بڑھانا اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا شامل بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے اپنی صلاحیتیں خود فروغ دینی ہوں گی۔

سورَو داس نے کہا، اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ عام زبان میں لکھیں

وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورَو داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’یو، براہ کرم ایسی پوسٹ لکھیں جیسے اہم عہدوں پر فائز عام سنجیدہ لوگ لکھتے ہیں۔ یہ ضرورت سے زیادہ جن زیڈ بننے کی کوشش جیسا لگتا ہے اور سچ کہوں تو کافی غیر آرام دہ محسوس ہوتا ہے۔ پالیسیاں سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں، کم از کم سنجیدہ تحریر کو تو ترک نہ کریں۔‘‘سورَو داس کا یہ ردعمل بنیادی طور پر وزیر اعظم کی پوسٹ کی زبان اور اندازِ بیان پر مرکوز تھا۔ انہوں نے اسکیم کی تکنیکی تفصیلات پر تبصرہ کرنے کے بجائے وزیر اعظم کے ابلاغ کے طریقے پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات کے عوامی پیغامات میں سنجیدگی کے ساتھ سادگی بھی ہونی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Building collapses in Chandni Chowk: دہلی کے چاندنی چوک میں زیرتعمیر تین منزلہ عمارت منہدم، دو افراد ہلاک، ملبے میں لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ

چاؤڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب گلی ستارہ میں پیش آیا حادثہ، فائر بریگیڈ کی…

3 hours ago