قومی

Bihar Assembly Election 2025: پی کے کا ’سیکریٹ گیم‘ لیک ! ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے پرشانت کشور کی پالیسی ؛ جن سوراج سے نکلی ’پچھلے دروازے‘ کی بات

سیاسی راجدھانی کہے جانے والے بہار میں ان دنوں سیاسی درجہ حرارت کافی بڑھ چکا ہے۔ لیڈران کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران بغاوت کے سُر بھی تیز ہو گئے ہیں۔ کئی لیڈران اپنی پارٹی اور اعلیٰ قیادت کو بھی نشانے پر لے رہے ہیں۔ ایسے میں جب پرشانت کشور یعنی پی کے بھی اپنی پارٹی ’’جن سوراج‘‘ کو لے کر انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں، تو وہ بھلا الزامات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ بہار کی ایک اسمبلی سیٹ پر پی کے اور ان کی ٹیم کے فیصلے کے خلاف جن سوراج کے اندر سے ہی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں پی کے کی حکمت عملی ناکام ہوتی جا رہی ہے۔

جن سوراج کے اندر ہی بغاوت کے سُر

ووٹنگ سے پہلے ہی پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج تنازعات میں گھر گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں الزامات کا طوفان جاری ہے۔ خاص طور پر بھاگلپور کی گوپال پور اور ناتھ نگر اسمبلی حلقوں میں معاملہ کافی آگے بڑھ چکا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ پوری کہانی کیا ہے؟ جن سوراج کے اندر ہی ٹکٹوں کی تقسیم معاملے پر بغاوت کے سُر بلند ہونے لگے ہیں۔ بھاگلپور کے گوپال پور اور ناتھ نگر اسمبلی حلقوں میں کارکنان نے پی کے پر پیسے لے کر امیدوار منتخب کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔ گوپال پور میں منکیشور سنگھ کو ٹکٹ دیے جانے کے فیصلے کے خلاف مقامی لیڈروں اور کارکنان نے جن سوراج کے بینر، پوسٹر اور پمفلٹ جلا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ نوگچھیا میں نیشنل ہائی وے پر کاغذات کو آگ لگا کر مظاہرہ کیا گیا۔

بجائے’’پچھلے دروازے‘‘ سے آئے لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا؟

کارکنان کا کہنا ہے کہ جن لیڈروں نے مہینوں تک محنت کی، ان کے بجائے’’پچھلے دروازے‘‘ سے آئے لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا۔ الزام یہ بھی ہے کہ بہار کی کئی اسمبلی نشستوں پر پیسوں کے لین دین کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کیا گیا، جس سے پارٹی کے اندر ناراضگی اور بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

پی کے کی پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج کے اندر سے اٹھا یہ الزام و جوابِ الزام کا طوفان نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ بہار انتخابات 2025 میں ان کے ’کنگ میکر‘ بننے کے خواب پر بھی پانی پھیر سکتا ہے۔ گوپال پور اور ناتھ نگر جیسی نشستوں پر محنتی کارکنان کو نظرانداز کر کے ’پچھلے دروازے‘ سے آئے لیڈروں کو مبینہ طور پر پیسے لے کر ٹکٹ دینے کے سنگین الزامات نے پی کے کی ’شفاف اور اصولی سیاست‘ کی پوری حکمتِ عملی پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

10 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

10 hours ago