سیاسی راجدھانی کہے جانے والے بہار میں ان دنوں سیاسی درجہ حرارت کافی بڑھ چکا ہے۔ لیڈران کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران بغاوت کے سُر بھی تیز ہو گئے ہیں۔ کئی لیڈران اپنی پارٹی اور اعلیٰ قیادت کو بھی نشانے پر لے رہے ہیں۔ ایسے میں جب پرشانت کشور یعنی پی کے بھی اپنی پارٹی ’’جن سوراج‘‘ کو لے کر انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں، تو وہ بھلا الزامات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ بہار کی ایک اسمبلی سیٹ پر پی کے اور ان کی ٹیم کے فیصلے کے خلاف جن سوراج کے اندر سے ہی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں پی کے کی حکمت عملی ناکام ہوتی جا رہی ہے۔
جن سوراج کے اندر ہی بغاوت کے سُر
ووٹنگ سے پہلے ہی پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج تنازعات میں گھر گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں الزامات کا طوفان جاری ہے۔ خاص طور پر بھاگلپور کی گوپال پور اور ناتھ نگر اسمبلی حلقوں میں معاملہ کافی آگے بڑھ چکا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ پوری کہانی کیا ہے؟ جن سوراج کے اندر ہی ٹکٹوں کی تقسیم معاملے پر بغاوت کے سُر بلند ہونے لگے ہیں۔ بھاگلپور کے گوپال پور اور ناتھ نگر اسمبلی حلقوں میں کارکنان نے پی کے پر پیسے لے کر امیدوار منتخب کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔ گوپال پور میں منکیشور سنگھ کو ٹکٹ دیے جانے کے فیصلے کے خلاف مقامی لیڈروں اور کارکنان نے جن سوراج کے بینر، پوسٹر اور پمفلٹ جلا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ نوگچھیا میں نیشنل ہائی وے پر کاغذات کو آگ لگا کر مظاہرہ کیا گیا۔
بجائے’’پچھلے دروازے‘‘ سے آئے لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا؟
کارکنان کا کہنا ہے کہ جن لیڈروں نے مہینوں تک محنت کی، ان کے بجائے’’پچھلے دروازے‘‘ سے آئے لوگوں کو ٹکٹ دیا گیا۔ الزام یہ بھی ہے کہ بہار کی کئی اسمبلی نشستوں پر پیسوں کے لین دین کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کیا گیا، جس سے پارٹی کے اندر ناراضگی اور بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پی کے کی پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پرشانت کشور کی پارٹی جن سوراج کے اندر سے اٹھا یہ الزام و جوابِ الزام کا طوفان نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ بہار انتخابات 2025 میں ان کے ’کنگ میکر‘ بننے کے خواب پر بھی پانی پھیر سکتا ہے۔ گوپال پور اور ناتھ نگر جیسی نشستوں پر محنتی کارکنان کو نظرانداز کر کے ’پچھلے دروازے‘ سے آئے لیڈروں کو مبینہ طور پر پیسے لے کر ٹکٹ دینے کے سنگین الزامات نے پی کے کی ’شفاف اور اصولی سیاست‘ کی پوری حکمتِ عملی پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…
پی سی جیولر میں بڑے سرمایہ کار کی سرمایہ کاری کے بعد حصص میں زبردست…
کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’پیارے محب…
سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…
پولیس نے نوٹس میں کہا ہے کہ کناٹ پلیس میں بڑی تعداد میں دکانیں، شوروم،…
بہار میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے درمیان جے ڈی یو کے رکن اسمبلی…