قومی

How to Identify Fake Websites & URLs: جعلی ویب سائٹ کی پہچان کیسے کریں؟ پی آئی بی نے فرضی لنکس کی شناخت کا بتایا آسان ترین طریقہ

آج کے دور میں صبح کی چائے سے لے کر رات کے کھانے تک، اور بینکنگ سے لے کر سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھانے تک تقریباً ہر کام آن لائن ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ نے جہاں ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے شاطر سائبر ٹھگوں کے لیے بھی دھوکہ دہی کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ ان دنوں آن لائن فراڈ کا سب سے خطرناک رجحان جعلی ویب سائٹس ہیں۔ ٹھگ بالکل اصلی ویب سائٹس جیسی نظر آنے والی نقلی سائٹس تیار کرتے ہیں اور ذرا سی لاپرواہی پر آپ کا پاس ورڈ، بینکنگ معلومات اور ذاتی ڈیٹا چرا کر بینک اکاؤنٹ تک خالی کر سکتے ہیں۔

اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر سرکاری ادارے پی آئی بی (پریس انفارمیشن بیورو) کے فیکٹ چیک ونگ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر چند نہایت اہم مشورے شیئر کیے ہیں۔ ان آسان طریقوں پر عمل کر کے آپ کسی بھی جعلی ویب سائٹ کی فوری شناخت کر سکتے ہیں۔

لنک پر کلک کرنے سے پہلے URL ضرور دیکھیں

کسی بھی ویب سائٹ پر جانے سے پہلے اس کے ایڈریس بار (URL) کو غور سے دیکھیں۔ محفوظ اور اصلی ویب سائٹس کا آغاز ہمیشہ https:// سے ہوتا ہے۔ اگر وہاں صرف http:// لکھا ہو اور ‘s’ موجود نہ ہو تو فوراً محتاط ہو جائیں۔ اس کے علاوہ سائبر ٹھگ اکثر معروف کمپنیوں یا سرکاری اداروں کے ناموں کی ہجے میں معمولی تبدیلی کر دیتے ہیں، جیسے Google کی جگہ GoogIe یا Amazon کی جگہ Amaz0n لکھ دیتے ہیں۔ پہلی نظر میں یہ فرق محسوس نہیں ہوتا، اس لیے اسپیلنگ کو اچھی طرح جانچنا ضروری ہے۔

ان چار اشاروں کو کبھی نظر انداز نہ کریں

تالے کا نشان:

محفوظ ویب سائٹس کے ایڈریس بار میں ہمیشہ ایک چھوٹا سا تالے (Lock) کا نشان نظر آتا ہے۔ اگر یہ تالا کھلا ہوا ہو یا سرخ رنگ کا انتباہی نشان دکھائی دے تو ایسی ویب سائٹ پر اپنی کوئی بھی ذاتی معلومات درج نہ کریں۔

غیر معمولی پاپ اَپس اور دباؤ:

اگر ویب سائٹ کھلتے ہی بار بار پاپ اَپ اشتہارات سامنے آئیں یا آپ کو کسی لنک پر کلک کرنے کے لیے مسلسل مجبور کیا جائے تو سمجھ جائیں کہ ویب سائٹ مشکوک ہے۔

‘Contact Us‘ اور ‘About Us‘ کی جانچ کریں:

کسی بھی غیر معروف ویب سائٹ کے Contact Us اور About Us صفحات پر جا کر فون نمبر، ای میل اور پتہ ضرور چیک کریں۔ جعلی ویب سائٹس پر یہ معلومات اکثر غلط، نامکمل یا سرے سے موجود ہی نہیں ہوتیں۔

مفت تحائف اور بھاری رعایتوں کا لالچ:

انٹرنیٹ پر مفت گفٹ، ایک کلک میں سرکاری نوکری یا انتہائی کم قیمت پر مہنگے اسمارٹ فون فروخت کرنے جیسے دعوے زیادہ تر جعلی ہوتے ہیں۔ ایسے پرکشش آفرز دراصل صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے بچھایا گیا جال ہوتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Govt Decision On Flex Fuel Vehicles: فلیکس فیول گاڑیوں کو بڑی راحت، E85 کے ساتھ اب E100 ایتھنول پر چلنے والی گاڑیوں کو بھی منظوری

حکومت کے نئے قواعد کے مطابق، فلیکس فیول کے لیے تیار کی گئی گاڑیوں کو…

10 minutes ago

Election Commission: ایس آئی آر تنازع کے درمیان سرگرم ہوا الیکشن کمیشن، سوشل میڈیا پر وضاحت اور قواعد میں رعایت دے کر اعتماد جیتنے کی کوشش

ایس آئی آر تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن سوشل میڈیا پر سرگرم ہوکر وائرل دعوؤں…

52 minutes ago