واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران وہ صرف ایک حملے میں ایران کی باقی ماندہ پوری قیادت کو ختم کر سکتے تھے، تاہم انہوں نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ اس کے بعد مذاکرات کے لیے کوئی باقی نہیں رہتا۔
’’ایک حملے میں سب کو ختم کر سکتے تھے‘‘
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس (Axios) سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی تمام اعلیٰ قیادت ایک ہی مقام پر موجود تھی۔ انہوں نے کہا، ’’وہ سب وہاں موجود تھے۔ ایک ہی حملے میں ہم سب کو ختم کر سکتے تھے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ پھر مذاکرات کے لیے ہمارے پاس کوئی نہ بچتا۔ وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران نے خامنہ ای کی آخری رسومات مکمل ہونے تک ایک ہفتے کے لیے مذاکرات اور فوجی کارروائیوں کو مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس عرصے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کوئی حملہ نہیں کریں گے۔
خامنہ ای کی تدفین میں تاخیر کی وجہ
آیت اللہ علی خامنہ ای، جنہوں نے 36 برس تک ایران کی قیادت کی، 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ اسلامی روایات کے مطابق میت کو جلد از جلد دفن کیا جاتا ہے، تاہم جاری جنگی حالات کے باعث ایرانی حکام نے اس معاملے میں استثنا اختیار کیا۔ ایران نے خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی کو کیا، جو امریکہ کے یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کا دن بھی ہے۔ تدفین سے قبل مختلف مذہبی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔
ایرانی عوام کے غم پر ٹرمپ کا تبصرہ
خامنہ ای کی آخری رسومات میں لاکھوں ایرانیوں نے شرکت کی، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت کئی اعلیٰ رہنما بھی اشک بار دکھائی دیے۔ اس منظر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کیونکہ ان کے خیال میں ایرانی عوام خامنہ ای کو پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’شاید یہ آنسو بھی جعلی ہوں۔‘‘ اس سے قبل بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کو آخری رسومات کے لیے ’’ایک ہفتے کی مہلت‘‘ دی ہے۔ دریں اثنا، اے این آئی کے مطابق، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کریں گے۔ ہندوستان میں ان کے نمائندے آیت اللہ حکیم الٰہی نے بتایا کہ اسرائیل کی مسلسل دھمکیوں اور سخت حفاظتی خدشات کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سطح پر موجودگی خطرناک سمجھی جا رہی ہے، اسی لیے وہ جنازے کی تقریبات میں شریک نہیں ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…
موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…
لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…
گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…