جولائی 2025 میں ایچ ایس بی سی فلیش انڈیا مینوفیکچرنگ پی ایم آئی 59.2 کی سطح پر پہنچ گیا، جو کہ گزشتہ 17.5 سالوں میں بلند ترین سطح ہے۔ جون کے 58.4 کے مقابلے میں یہ اضافہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مضبوط ترقی کی نشاندہی کرتا ہے، جو کہ مضبوط ملکی اور عالمی طلب سے تقویت یافتہ ہے۔ کمپنیوں نے نئی آرڈرز میں تیزی سے اضافہ دیکھا، جو کہ نئی مصنوعات کے تعارف، مارکیٹنگ کی موثر حکمت عملیوں، اور بہتر معاشی حالات کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس ترقی نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔
کمپوزٹ پی ایم آئی، جو مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹرز دونوں کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے، 60.7 تک پہنچ گیا، جو کہ ایک سال سے زائد عرصے میں سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔ یہ تیزی مضبوط طلب، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اور صلاحیتوں میں توسیع کی وجہ سے دیکھی گئی۔ سروس سیکٹر میں خاص طور پر روزگار میں نمایاں اضافہ ہوا، جو کہ صحت مند ملازمتوں کی تخلیق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دونوں سیکٹرز میں یہ توسیع نہ صرف معاشی استحکام کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مستقبل کے لیے مثبت امکانات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
بھارتی کمپنیاں اگلے بارہ مہینوں کے لیے پیداوار میں اضافے کے حوالے سے پرامید ہیں۔ نگرانی کی جانے والی کمپنیوں نے اس ترقی کو مضبوط طلب، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اور صلاحیتوں کی توسیع سے منسوب کیا۔ اس کے علاوہ، نئے آرڈرز اور عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی مانگ نے کمپنیوں کے اعتماد کو مزید تقویت دی ہے۔ یہ رجحان بھارت کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جو کہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور آنے والے وقتوں میں مسلسل ترقی کی امید جگاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس
پونے میٹرو لائن-3 کی سب سے خاص بات اس میں خواتین کی بڑی شمولیت ہے۔…
بھارتی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ہر شہری کو سوال پوچھنے…
دندروا دھام مندر کی سب سے مشہور روایت ایک سنت کی بیماری سے جڑی ہوئی…
نشستوں کے حساب سے ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان میں معمولی اکثریت حاصل ہے، جہاں…
گلین میکسویل نے ’دی فائنل ورڈ‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے…
ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اب اگلا قدم امریکہ کو اٹھانا ہے۔ تہران…