شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے تحت گجرات میں 185 پاکستان سے آئے ہوئے افراد کو ہندوستانی شہریت دے دی گئی۔ بدھ کے روز راجکوٹ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی نے ان افراد کو شہریت کے سرٹیفکیٹس سونپے۔ یہ مہاجرین کَچھ، موربی اور راجکوٹ میں مقیم تھے، جنھیں ہندوستانی حکومت کی جانب سے فلاحی اسکیموں میں مکمل شرکت کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔
اس موقع پر ہرش سنگھوی نے کہا کہ ’’آج آپ کی نئی زندگی کی شروعات ہے۔ اب آپ ہندوستان کے شہری ہیں، خوش رہیے!‘‘ تقریب کے دوران ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔ سانگھوی نے پاکستانی اقلیتوں، خصوصاً ہندو، سکھ، جین اور بدھ مت کے ماننے والوں پر ہونے والے مظالم کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان میں سے کچھ نے اپنے شوہروں کو کھو دیا، کچھ کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، لیکن پھر بھی انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں ان کی حوصلہ مندی کو سلام کرتا ہوں۔‘‘ اس دوران ہرش سنگھوی نے پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کے معاملے میں دنیا کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ انھوں نے پوچھا ’’پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی برادری خاموش کیوں ہے؟‘‘
دریں اثنا شہریت حاصل کرنے والے افراد نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے۔ راجکوٹ کی بھونا بین مہیشوری نے کہا کہ ’’میں نے پاکستان میں بہت تکلیفیں جھیلیں، لیکن آج میں فخر سے خود کو بھارتی کہتی ہوں۔‘‘ وہیں موربی کی چمپا کھمبھالا نے کہا کہ ’’پاکستان میں ہندو کھل کر تہوار بھی نہیں منا سکتے۔ بھارت کی زندگی کہیں بہتر ہے۔ میری دعا ہے کہ میرے باقی خاندان والے بھی جلد بھارت آ سکیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
نشستوں کے حساب سے ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان میں معمولی اکثریت حاصل ہے، جہاں…
گلین میکسویل نے ’دی فائنل ورڈ‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے…
ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اب اگلا قدم امریکہ کو اٹھانا ہے۔ تہران…
سی اے کیو ایم نے شہریوں سے جی آر اے پی کے پہلے اور دوسرے…
جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…
ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…