مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کو لے کر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم حکومت ہند نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کے باوجود بعض علاقوں میں افواہوں کے باعث لوگوں نے گھبراہٹ میں زیادہ مقدار میں ایندھن خریدنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی شہروں کے پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف ضرورت کے مطابق ہی ایندھن خریدیں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بھارت میں ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ حکومت دیگر ممالک سے اضافی درآمدات پر بھی توجہ دے رہی ہے تاکہ سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھبراہٹ میں خریداری نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے مصنوعی قلت کا تاثر بھی پیدا ہوتا ہے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر ایک شخص ایک دن میں پٹرول پمپ سے کتنی مقدار میں تیل خرید سکتا ہے۔ قواعد کے مطابق آپ اپنی گاڑی میں جتنا چاہیں ایندھن بھروانے کے مجاز ہیں۔ اس پر کوئی روزانہ کی حد مقرر نہیں کی گئی۔ اگر گاڑی کا ٹینک بھر چکا ہو اور پھر بھی ضرورت ہو تو صارف دوبارہ پٹرول پمپ جا کر ایندھن خرید سکتا ہے۔ اس معاملے میں حکومت نے کسی سخت پابندی کا نفاذ نہیں کیا ہے۔
البتہ جب بات کین یا کنٹینر میں پٹرول لینے کی آتی ہے تو کچھ ضوابط نافذ ہوتے ہیں۔ عام طور پر پٹرول پمپ 2 سے 5 لیٹر تک پٹرول کین میں فراہم کرتے ہیں۔ بعض حالات میں 5 سے 10 لیٹر تک بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے مناسب کنٹینر ہونا ضروری ہے۔ پلاسٹک کی عام بوتلوں میں پٹرول دینے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ یہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ پٹرول صرف اسٹیل یا منظور شدہ مضبوط پلاسٹک کے کنٹینر میں ہی فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بڑی مقدار میں، جیسے 20 لیٹر، 50 لیٹر یا اس سے زیادہ پٹرول خریدنا چاہے تو اس کے لیے خصوصی اجازت یا لائسنس درکار ہوتا ہے۔ یہ ضوابط پٹرولیم ایکٹ 1934 کے تحت نافذ ہیں۔ اس قانون کے مطابق خریدار کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ پٹرول کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، جیسے جنریٹر، زرعی کام یا صنعتی سرگرمی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرنا ضروری ہوتا ہے کہ ایندھن کو کہاں اور کیسے محفوظ رکھا جائے گا۔
گھروں میں پٹرول یا ڈیزل ذخیرہ کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرول آتش گیر مادہ ہے اور معمولی چنگاری بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت نے سختی سے ہدایت دی ہے کہ گھروں میں ایندھن جمع نہ کیا جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عوام کو افواہوں پر دھیان دینے کے بجائے سرکاری معلومات پر اعتماد کرنا چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ خریداری نہ کریں، پٹرول پمپوں پر حفاظتی اصولوں پر عمل کریں اور ایندھن کا دانشمندانہ استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف حادثات کا خطرہ کم ہوگا بلکہ سپلائی بھی متوازن رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…