نئی دہلی: مرکزی پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ہفتہ کے روز واضح کیا ہے کہ ملک بھر کے پٹرول پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل کی مناسب مقدار دستیاب ہے اور کہیں بھی ایندھن کی کمی نہیں ہے۔ وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں آ کر ایندھن ذخیرہ کرنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی پٹرول یا ڈیزل کو کھلے یا غیر محفوظ کنٹینروں میں بھر کر رکھیں کیونکہ اس سے سنگین حفاظتی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ وزارت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ملک کے تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پٹرول اور ڈیزل وافر مقدار میں موجود ہے اور سپلائی کا نظام معمول کے مطابق جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایندھن کو ڈھیلے یا غیر مناسب برتنوں میں نہ لیں اور نہ ہی اسے ذخیرہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس سے آگ لگنے یا دیگر حادثات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
وزارت کے مطابق حال ہی میں تمل ناڈو کے ایک پٹرول پمپ پر ایک شخص کو کھلے کنٹینر میں پٹرول بھرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جو کہ حفاظتی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس واقعے کے بعد متعلقہ پٹرول پمپ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا اور معاملے کی جانچ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ملک بھر کے پٹرول پمپوں اور ڈیلروں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ایندھن کی فراہمی کے دوران تمام حفاظتی ضابطوں پر سختی سے عمل کریں۔ اگر کسی مقام پر قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزارت نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پٹرول، ڈیزل یا ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق ملک میں ایندھن کے ذخائر کافی ہیں اور سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے، اس لیے گھبرانے یا غیر ضروری خریداری کی کوئی ضرورت نہیں۔ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے مطابق ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ ریٹیل آؤٹ لیٹس پر کہیں بھی ایندھن ختم ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے اور ہر جگہ سپلائی مسلسل جاری ہے۔
ایک سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ بھارت اس وقت ریفائننگ کی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کے بڑے مراکز میں شامل ہے۔ ملک کی موجودہ ریفائننگ صلاحیت تقریباً 258 ملین میٹرک ٹن سالانہ ہے، جس کے باعث بھارت دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ریفائننگ ہب بن چکا ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ حکومت نے 9 مارچ کو ضروری اشیاء ایکٹ کے تحت قدرتی گیس کے حوالے سے ایک کنٹرول آرڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت پی این جی اور سی این جی کی سو فیصد فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں اور اس میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صنعتی اور تجارتی صارفین کو فی الحال تقریباً 80 فیصد سپلائی کے مطابق انتظام کیا جا رہا ہے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو کسی قسم کی گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ملک میں ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر مستحکم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…
کنّوا کے قریب تین بلڈوزر کھڑے کرکے اکھلیش یادو کے رتھ پر کی گئی پھولوں…
نیو ٹاؤن میں اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سنسکرت کا…
حادثے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔…