قومی

West Bengal polls: ’’مغربی بنگال میں عوام نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ دباؤ میں دیا ووٹ‘‘ اکھلیش یادو نے ممتا بنرجی سے کی ملاقات، کہا-’’دیدی، آپ ہاری نہیں ہیں‘‘

کولکاتا: اکھلیش یادو نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں عوام نے آزادانہ طور پر نہیں بلکہ دباؤ کے ماحول میں ووٹ ڈالے۔ انہوں نے بی جے پی پر جمہوری عمل کو کمزور کرنے کا بھی الزام لگایا۔ کولکاتا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی سربراہ نے کہا کہ مغربی بنگال میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا ایک نیا طریقہ اپنایا گیا۔ ان کے مطابق انتخابات کے دوران مرکزی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے ذریعے دباؤ کا ماحول بنایا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا ’’شاید جمہوریت کو اتنا نقصان کسی نے نہیں پہنچایا جتنا بی جے پی نے پہنچایا ہے۔ وہ خواتین کی سیاسی ترقی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ یہاں ووٹنگ ضرور ہوئی، لیکن لوگوں نے اپنی مرضی سے زیادہ دباؤ میں ووٹ دیا۔‘‘ انہوں نے انتخابی تشدد، پارٹی کارکنان پر حملوں اور ترنمول کانگریس کے دفاتر نذر آتش کیے جانے کے واقعات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ انہوں نے الیکشن کمیشن اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی جواب طلب کیا۔

مرکزی فورسز کی غیر معمولی تعیناتی کا الزام

سماجوادی پارٹی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں تین لاکھ سے زیادہ مرکزی فورسز تعینات کی گئیں، جس سے ایک ’’متوازی نظام‘‘ قائم کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش اور بہار سے بڑی تعداد میں فورسز کو انتخابی ڈیوٹی کے لیے مغربی بنگال لایا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب اتر پردیش میں انتخابات ہوں گے تو وہاں بنگال، آسام، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش سے فورسز بھیجی جائیں گی۔

ممتا بنرجی سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

دریں اثنا اکھلیش یادو نے کولکاتا میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات بھی کی۔ بند کمرے میں ہونے والی اس ملاقات میں ابھیشیک بنرجی بھی موجود تھے۔ ترنمول کانگریس ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جہاں اکھلیش یادو نے ابھیشیک بنرجی سے کہا ’’آپ لوگوں نے قابل تعریف لڑائی لڑی ہے۔‘‘ جبکہ ممتا بنرجی سے انہوں نے کہا، ’’دیدی، آپ ہاری نہیں ہیں۔‘‘  واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 207 نشستیں حاصل کرکے شاندار کامیابی درج کی، جبکہ گزشتہ 15 برس سے اقتدار میں رہنے والی ترنمول کانگریس کو 80 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Rahul Gandhi Wins 2018 Defamation Case: راہل گاندھی 6 سال بعد ہتکِ عزت کے مقدمے میں کیسے ہوئے بری؟ یہ 2 نکات بنے اہم

سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…

16 minutes ago

PM Modi congratulates ‘dear friend’ Lula da Silva: وزیر اعظم مودی نے ’عزیز دوست‘ لولا کو برازیل کے صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارک دی باد

صدر لولا فروری 2026 میں ہندوستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس دوران حیدرآباد ہاؤس…

53 minutes ago

Setback for Team India: ٹیم انڈیا کو جھٹکا، نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی 20 میچ سے بھی باہر ہوئے ایشان کشن

ایشان کشن کی جگہ دوسرے ٹی 20 میچ میں ویبھَو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون…

2 hours ago

Cyclonic Storm ‘Arnab’ in the Bay of Bengal: خلیج بنگال میں سمندری طوفان ’ارنَب‘، بھارت میں ہائی الرٹ، ان ریاستوں میں دکھائی دے گا اثر

سمندری طوفان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اڈیشہ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں قومی…

3 hours ago