قومی

Arvind Kejriwal’s controversial statement: سی جے پی احتجاج میں لوگ مودی کو ٹھوکنے آئے تھے، اروند کیجریوال کے متنازع بیان پر بی جے پی کا شدید ردعمل

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے ایک متنازع بیان دے دیا ہے۔ بی جے پی نے کیجریوال کے بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی۔ کیجریوال نے کہا کہ ’سی جے پی‘ احتجاج میں لوگ مودی کو ’ٹھوکنے‘ آئے تھے۔کیجریوال کے اس بیان کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی نے اسے کیجریوال کی ’گھٹیا سوچ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جیسے آئینی عہدے پر فائز شخص کے لیے اس طرح کی زبان ناقابل قبول ہے۔

یہ اخلاقی اور لسانی دیوالیہ پن کی انتہا ہے

دہلی حکومت کے وزیر اور بی جے پی رہنما کپل مشرا نے اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں جس طرح کی زبان استعمال کی جارہی ہے، وہ کسی ’بغاوت یا انقلاب‘ کی علامت نہیں بلکہ اخلاقی اور لسانی دیوالیہ پن کی آخری چیخ ہے۔کپل مشرا نے کیجریوال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کو دہلی کے عوام نے ’ٹھوک‘ کر پنجاب بھیج دیا اور جسے اب پنجاب کے عوام بھی ’ٹھوکنے‘ جارہے ہیں، وہ اپنی مایوسی میں وزیر اعظم کو ’ٹھوکنے‘ کی بات کر رہا ہے۔

ملک کے عوام نریندر مودی کے ساتھ ہیں

کپل مشرا نے مزید کہا کہ ملک کے عوام کسی کو ’ٹھوکنے‘ کی سیاست کے لیے نہیں بلکہ نریندر مودی کے ساتھ ترقی کی قومی پالیسی کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کی یہ حمایت مستقبل میں مزید مضبوطی کے ساتھ برقرار رہے گی۔

دہلی بی جے پی کا کیجریوال پر حملہ

دہلی بی جے پی نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اروند کیجریوال کو نشانہ بنایا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ سی جے پی کے احتجاج کے ’اصل مالک‘ کیجریوال ہیں اور انہوں نے خود ہی یہ بات تسلیم کرلی ہے۔ بی جے پی کے مطابق احتجاج میں سڑکوں پر آنے والے لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کو ’ٹھوکنے‘ آئے تھے۔

پنجاب کے عوام بھی جواب دیں گے

دہلی بی جے پی کے سابق صدر وریندر سچدیوا نے بھی کیجریوال کے بیان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں، وہ انتہائی قابل مذمت ہے اور مہذب معاشرے میں ایسی زبان کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔سچدیوا نے کیجریوال پر بدعنوانی اور افراتفری کی سیاست کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں اور دنیا ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال کے بیان کا جواب دہلی کے عوام پہلے ہی دے چکے ہیں اور پنجاب کے عوام بھی جواب دیں گے۔ انہوں نے کیجریوال کو انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔کیجریوال کے بیان نے ایک بار پھر عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی بیان بازی متوقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

4 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

5 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

5 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

5 hours ago