پٹنہ: بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بی پی ایس سی ٹی آر ای-4 کے امیدواروں کے احتجاج کے دوران 6 سالہ آدتیہ کمار کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا ہے۔ پہلی جماعت میں زیرِ تعلیم آدتیہ نے احتجاج کے دوران مائیک سنبھال کر بے روزگاری، طلبہ کے مسائل اور پولیس کی کارروائی پر اپنی بات رکھی، جسے سن کر موقع پر موجود لوگ بھی حیران رہ گئے۔
بس کی چھت پر ترنگا لے کر پہنچا بچہ
25 اگست کو پٹنہ کے ڈاک بنگلہ چوراہے پر طلبہ اور ملازمت کے امیدوار احتجاج کر رہے تھے۔ اسی دوران آدتیہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ احتجاجی مقام پر پہنچا۔ وائرل ویڈیو میں وہ ایک بس کی چھت پر ترنگا ہاتھ میں لیے مائیک کے ذریعے مظاہرین سے خطاب کرتا دکھائی دیتا ہے۔
’’لاٹھی ملک کے مستقبل پر چلی ہے‘‘
آدتیہ نے اپنی تقریر میں بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل کا مسئلہ اٹھایا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج کا ذکر کرتے ہوئے اس نے کہا کہ لاٹھی صرف طلبہ پر نہیں بلکہ ملک کے مستقبل پر چلی ہے۔ بچے کے اندازِ بیان نے احتجاج میں موجود لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
وزیر اعلیٰ کے استعفے کا بھی مطالبہ
رپورٹس کے مطابق آدتیہ نے اپنی بات میں بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس سے قبل بھی وہ طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق بعض احتجاجی پروگراموں میں نظر آچکا ہے۔
پولیس نے بچے کو احتجاجی مقام سے ہٹایا
احتجاج کے دوران کشیدگی بڑھنے پر پولیس اہلکاروں نے بچے کو وہاں سے ہٹایا۔ بعض ویڈیوز میں پولیس اہلکار آدتیہ اور اس کے ساتھ موجود خاتون کو سرکاری گاڑی میں بٹھا کر احتجاجی مقام سے دور لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم پولیس نے بچے کو حراست میں لینے کی بات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے اس کی حفاظت کے پیش نظر ہٹایا گیا تھا۔
ٹی آر ای-4 امیدوار کیوں کر رہے ہیں احتجاج؟
ٹی آر ای-4 امیدوار بھرتی کے امتحان کے طریقۂ کار سمیت کئی مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں ایک مرحلے میں امتحان کرانے، منفی نمبرنگ ختم کرنے، عمر میں رعایت اور دیگر مطالبات شامل ہیں۔ 25 اگست کو احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے بعد پانی کی توپیں چلائی گئیں اور پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ پتھراؤ میں ایک پولیس افسر کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
چھوٹے بچے کی تقریر بنی موضوعِ بحث
آدتیہ کمار کی ویڈیو نے بی پی ایس سی امیدواروں کے احتجاج کو ایک نیا زاویہ دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ بچے کی کم عمری میں بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے مسائل پر گفتگو کرنے پر مختلف ردعمل دے رہے ہیں۔ تاہم بچے کے احتجاج میں شامل ہونے اور کشیدہ مقام پر موجودگی کو لے کر بعض افراد نے اس کی حفاظت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…