قومی

Malikarjun Khadge Vs Kiren Rijiju: آر پار کی لڑائی! ’’اب مجھے کرن رجیجو سے قواعد سیکھنے پڑیں گے‘‘، آخر ملیکارجن کھڑگے اتنے برہم کیوں ہوئے؟

جمعرات کو پارلیمنٹ کی کارروائی شدید ہنگامہ آرائی اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان تند و تیز نوک جھونک کی نذر رہی۔ طلبہ پر پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں زبردست نعرے بازی کی، جس کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی کچھ ہی دیر بعد ملتوی کرنی پڑی۔ تاہم اس دوران سب سے زیادہ توجہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور حزب اختلاف کے لیڈر  ملیکارجن کھڑگے کے درمیان ہونے والی لفظی جنگ نے حاصل کی۔

کرن رجیجو کا اپوزیشن پر حملہ

ہنگامے کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن پر پارلیمانی قواعد کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی رکن ایوان میں اظہارِ خیال کر رہا ہو تو درمیان میں مداخلت کرنا قواعد کے خلاف ہے۔رجیجو نے براہِ راست ملیکارجن کھڑگے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ ایوان میں ایک ہی بات دہراتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کے نو منتخب رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی حال ہی میں پارلیمنٹ پہنچے ہیں، اس لیے انہیں پہلے پارلیمانی قواعد کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

کھڑگے کا سخت جواب

کرن رجیجو کے ان بیانات پر ملیکارجن کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ راجیہ سبھا میں جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’کیا اب مجھے کرن رجیجو سے پارلیمانی قواعد سیکھنے پڑیں گے؟ میں بھی قواعد سے بخوبی واقف ہوں۔ اگر میں اپنا موضوع نہیں پڑھوں گا تو کیا آپ کا دیا ہوا موضوع پڑھوں؟‘‘ کھڑگے نے پون کھیڑا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور حکومت جان بوجھ کر اپوزیشن کے اراکین کی توہین کر رہی ہے۔

’’وزیر داخلہ ایوان میں آکر جواب دیں‘‘

حزب اختلاف کے لیڈر نے سابق بی جے پی رہنما ارون جیٹلی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں بعض اوقات احتجاج اور رکاوٹ بھی جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہے۔کھڑگے نے الزام لگایا کہ اپوزیشن ملک اور عوام سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہی ہے، لیکن حکومت جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ وزیر، یعنی مرکزی وزیر داخلہ، ایوان میں آکر اس پورے معاملے پر باضابطہ بیان دیں۔شدید ہنگامے کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی مکمل طور پر متاثر رہی اور دونوں ایوانوں میں معمول کا کام کاج نہیں ہو سکا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

3 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

4 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

5 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

6 hours ago