قومی

Parliament Security: سی جے پی کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ، 2001 کے حملے کے بعد پارلیمنٹ کا حفاظتی نظام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط

نئی دہلی :دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران بھارتی پارلیمنٹ کی سکیورٹی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی۔ جیسے ہی مظاہرین جنتر منتر سے ریل بھون کی طرف بڑھے، پارلیمنٹ کی حفاظت پر مامور تمام سکیورٹی اہلکار فوری طور پر ہائی الرٹ پر آ گئے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے بند کر دیے گئے اور کوئیک ریسپانس ٹیم  (اوآرٹی)نے چند لمحوں میں اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ اس واقعے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔2001 میں پارلیمنٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اب پارلیمنٹ کی حفاظت صرف مسلح اہلکاروں تک محدود نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام، بایومیٹرک انٹری، سی سی ٹی وی کیمروں، دھماکہ خیز مواد کی شناخت کرنے والے آلات، فائر بریگیڈ یونٹس اور کوئیک ریسپانس ٹیموں پر بھی مشتمل ہے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے جاتے ہیں۔پارلیمنٹ کمپلیکس کی سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری مرکزی صنعتی حفاظتی فورس (سی آئی ایس ایف) کے پاس ہے، جو مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے۔ تقریباً 3300 سی آئی ایس ایف اہلکار مختلف شفٹوں میں پارلیمنٹ کی حفاظت پر تعینات رہتے ہیں۔ ان میں کمانڈوز، فائر فائٹرز، آفات سے نمٹنے والے اہلکار اور خصوصی ردعمل دینے والی ٹیمیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ جنتر منتر یا اطراف میں بڑے مظاہروں کے دوران اضافی فورس بھی تعینات کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کو بروقت روکا جا سکے۔

پارلیمنٹ کی اندرونی سکیورٹی کا نظام نہایت منظم ہے۔ راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کی پارلیمنٹ سکیورٹی سروس(پی ایس ایس) اندرونی حفاظتی ایجنسی کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس کی نگرانی لوک سبھا سیکریٹریٹ کے جوائنٹ سیکریٹری اور راجیہ سبھا کے ڈائریکٹر و اسپیشل ڈائریکٹر کرتے ہیں۔ یہ ٹیم دہلی پولیس، پارلیمنٹ ڈیوٹی گروپ(پی ڈی جی) ، انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) اور نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) سمیت دیگر اہم سکیورٹی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہے۔پارلیمنٹ کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نہ صرف چوکسی بلکہ ہر طرح کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی خصوصی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ انہیں ذہنی دباؤ پر قابو پانے، زلزلے یا آگ جیسے حادثات سے نمٹنے، ابتدائی طبی امداد اور ایوان کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں این ایس جی کے ساتھ انسداد دہشت گردی، سی آئی ایس ایف اکیڈمی میں جدید حفاظتی حکمت عملی اور انٹیلی جنس بیورو کے ذریعے دھماکہ خیز مواد کی شناخت اور ناکارہ بنانے کی عملی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔پارلیمنٹ کے اطراف کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا سکیورٹی میں دراندازی کی کوشش کی صورت میں سب سے پہلے کوئیک ریسپانس ٹیم متحرک ہوتی ہے۔

جدید مواصلاتی آلات اور جدید ہتھیاروں سے لیس یہ ٹیم چند سیکنڈ کے اندر موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بھی ہر وقت تیار رہتی ہیں۔پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم، مرکزی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی موجودگی کے باعث حفاظتی حصار مزید مضبوط کر دیا جاتا ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں ایک طرف شہریوں کے پرامن احتجاج کے جمہوری حق کا احترام کرتی ہیں، تو دوسری جانب پارلیمنٹ اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

2 hours ago

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

4 hours ago