نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل کل جماعتی میٹنگ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم مسائل پر بحث کے لیے ماحول تیار ہوتا دکھائی دیا، لیکن ساتھ ہی اجلاس میں ٹکراؤ کے امکانات بھی واضح ہو گئے ہیں۔
حکومت ضابطوں کے تحت بحث کے لیے تیار
وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو نے میٹنگ کے بعد کہا کہ حکومت تمام حساس اور اہم موضوعات پر پارلیمانی ضابطوں کے تحت بحث کے لیے تیار ہے، جن میں آپریشن سندور، پہلگام دہشت گرد حملہ، ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات شامل ہیں۔ رجیجو نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بامعنی بحث ہو اور حکومت ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم سے براہ راست جواب کا مطالبہ
میٹنگ میں مختلف پارٹیوں کے رہنماؤں نے حکومت کو کئی محاذوں پر گھیرنے کے اشارے دیے۔ کانگریس کے گورو گگوئی نے کہا کہ آپریشن سندور، سرحدی تنازع، ووٹر لسٹ کی خامیاں اور ٹرمپ کے دعوے اہم بحث طلب موضوعات ہیں، جن پر وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں جواب دینا ہوگا۔ سماجوادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے الزام لگایا کہ آپریشن سندور کے دوران دنیا کے کسی بڑے ملک نے بھارت کی کھل کر حمایت نہیں کی، جس سے خارجہ پالیسی کی ناکامی جھلکتی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے ٹرمپ کے ان الزامات پر وضاحت مانگی جن میں 5 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے تھمبی دورائی نے بھی کہا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں وزیر اعظم سے آپریشن سندور پر براہ راست وضاحت چاہتی ہیں۔ بیجو جنتا دل کے سسمیت پاترا نے اڈیشہ کی امن و قانون کی صورتحال کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ تلگو دیشم پارٹی کے سری کرشنا دیورائیلو نے تمام جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کے قیمتی وقت کا بہتر استعمال کیا جائے۔
حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر سوال
اپوزیشن نے میٹنگ میں حکومت کی خارجہ پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے، بالخصوص اس بات پر کہ آپریشن سندور جیسے بڑے آپریشن پر عالمی برادری کی حمایت کیوں کمزور رہی۔
بحث پر آمادگی، لیکن شرائط کے تحت
کرن رجیجو نے واضح کیا کہ بحث صرف پارلیمانی ضابطوں اور طریقہ کار کے تحت ہوگی، اور انہوں نے بی اے سی (Business Advisory Committee) کی منظوری کو اہم قرار دیا۔ اگرچہ حکومت نے نرم لہجے میں اپوزیشن کی بات سننے کا عندیہ دیا ہے، لیکن اپوزیشن کی تیز اور جارحانہ تیاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اجلاس خاصا ہنگامہ خیز ہو سکتا ہے۔
مانسون اجلاس 21 جولائی سے
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 21 جولائی سے شروع ہو رہا ہے۔ حکومت نے بحث کی یقین دہانی تو کرائی ہے، لیکن اصل امتحان اجلاس کے پہلے دن ہی ہوگا، جب پتہ چلے گا کہ وعدے عمل میں کیسے ڈھلتے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم خود پارلیمنٹ میں ان حساس موضوعات پر بولیں گے؟ اور کیا حکومت اپوزیشن کے تمام سوالات کا کھل کر جواب دے گی یہ دیکھنا کافی اہم ہوگا؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…