قومی

No-Confidence Motion Against Speaker: اپوزیشن کی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری، پارلیمنٹ میں آئینی ٹکراؤ کے آثار؟

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آغاز پیر کی صبح بظاہر پُرسکون ماحول میں شروع ہوا، مگر محض 5 منٹ کے اندر حالات اس قدر بگڑ گئے کہ ایوان ایک بار پھر شدید سیاسی کشمکش کا مرکز بن گیا۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور اب اسپیکر اوم برلا کے خلاف بڑا قدم اٹھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر غور کر رہا ہے، جس سے آئینی تصادم کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ پیر کو صبح 11 بجے جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی، اسپیکر اوم برلا نے انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کو مبارکباد دی۔ اس کے فوراً بعد سوالیہ وقفہ شروع ہوتے ہی کانگریس اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے راہل گاندھی کو بولنے کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو اہم قومی معاملات پر ایوان میں اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران بولنے پر اصرار اور ہنگامہ
اسپیکر اوم برلا نے واضح الفاظ میں کہا کہ سوالیہ وقفہ صرف سوالات کے لیے مخصوص ہوتا ہے اور اس دوران کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اپوزیشن اراکین کو ہدایت دی کہ وہ زیرو آور یا بجٹ پر بحث کے دوران اپنی بات رکھیں۔ اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ ایوان کو دانستہ طور پر تعطل کا شکار بنانا پارلیمانی روایات کے خلاف ہے۔ اس کے باوجود شور شرابا جاری رہا، جس کے باعث کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

خفیہ اجلاس اور تحریک عدم اعتماد
صورتحال کے بگڑنے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کی ایک خفیہ اور ہنگامی میٹنگ ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر متفق ہو چکی ہیں۔ اپوزیشن اراکین جلد ہی اس سلسلے میں لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل کو باضابطہ نوٹس دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حالیہ دنوں میں کئی اراکین کی معطلی اور خواتین اراکین سے متعلق الزامات جیسے حساس معاملات پر راہل گاندھی کو بولنے سے روکا گیا، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

ہمنت بسوا سرما کی ویڈیو
ادھر پارلیمنٹ میں ہنگامے کی ایک اور بڑی وجہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما سے جڑا ایک متنازع ویڈیو۔ بتایا گیا ہے کہ آسام بی جے پی کے ایکس ہینڈل سے پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو میں وزیر اعلیٰ مبینہ طور پر ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بناتے نظر آئے، تاہم بعد میں یہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دی گئی۔ کانگریس رکن عمران پرتاپ گڑھی نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے اس طرح کا مواد ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ ہمنت بسوا سرما کے خلاف کارروائی کی جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

18 minutes ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

2 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

2 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

3 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

3 hours ago