مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
دراصل کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس تجویز پر بحث کے لیے ایوان میں مجموعی طور پر 10 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس بحث کی شروعات ایک دن پہلے کانگریس کی جانب سے رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کی تھی۔ بحث کے پہلے دن اپوزیشن نے اسپیکر کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔ بی جے پی کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے سب سے پہلے اپنی بات رکھی اور اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیا۔ آج بحث کا دوسرا دن تھا، جس میں وزیر داخلہ امت شاہ نے ایوان میں اس تجویز پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔
اسپیکر کی وفاداری پر سوال اٹھانا قابلِ مذمت: امت شاہ
لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کے خلاف لائے گئے عدم اعتماد کی تجویز پر وزیر داخلہ امت شاہ نے اسے افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر پورے ایوان کے ہوتے ہیں اور ان کی وفاداری پر سوال اٹھانا پارلیمانی روایات کے خلاف ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ اسپیکر تمام ارکانِ پارلیمنٹ کے مفادات کے محافظ ہوتے ہیں اور ایوان کی کارروائی کو قواعد کے مطابق چلانا ان کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی رکن قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسپیکر کا فرض ہے کہ وہ اسے روکے یا اس کے خلاف کارروائی کرے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی طویل عرصے تک اپوزیشن میں رہی، لیکن اس دوران کبھی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز نہیں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا ماننا ہے کہ اسپیکر کی غیرجانبداری پر کبھی شک نہیں کرنا چاہیے۔
اسپیکر پر عدم اعتماد جمہوریت کے وقار کو ٹھیس: امت شاہ
امت شاہ نے اس تجویز کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر پورے ایوان کے محافظ ہوتے ہیں اور ان کے فیصلوں میں مداخلت کا اختیار سپریم کورٹ کو بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ تحفظ آئین نے دیا ہے۔ ان کے مطابق اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور تمام ارکان کو بولنے کا موقع دیں۔ اگر کوئی رکن قواعد کی خلاف ورزی کرے یا ہنگامہ کرے تو اسپیکر کو وارننگ دینے، نامزد کرنے، معطل کرنے یا ایوان سے نکالنے کا اختیار حاصل ہے۔
وزیر اعظم کو ہٹایا جا سکتا ہے، لیکن اسپیکر کو نہیں: امت شاہ
امت شاہ نے کہا کہ اسپیکر پر سوال اٹھانا قانون سازی کے وقار پر سوال کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو ہٹانے کی تجویز لائی جا سکتی ہے اور اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے، لیکن اسپیکر کو ہٹانا صرف غیر معمولی اور سنگین حالات میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت اسپیکر کو ہٹانے کے لیے مؤثر اکثریت ضروری ہوتی ہے، جو ایک طرح کا آئینی تحفظ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روایت رہی ہے کہ جب اسپیکر کے خلاف تجویز زیرِ غور ہو تو وہ بحث کے دوران کرسی پر نہیں بیٹھتے، اور اوم برلا نے بھی اسی روایت پر عمل کیا۔
اسپیکر نہیں، حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش: امت شاہ
لوک سبھا میں امت شاہ نے کہا کہ اسپیکر کے خلاف لائی گئی تجویز پر ہونے والی تقریروں کا 80 فیصد حصہ اسپیکر کے طرزِ عمل پر نہیں بلکہ حکومت کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تنقید کے لیے پارلیمانی طریقے موجود ہیں، لیکن اسپیکر کے وقار پر سوال اٹھانا درست نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قواعد کے خلاف بولنے پر مائیک بند کرنا ایک معمول کی کارروائی ہے اور یہ کسی ایک رکن کے ساتھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پپو یادو کی تقریر کے دوران گریراج سنگھ بھی بول رہے تھے اور ان کا مائیک بھی بند تھا، حالانکہ وہ وزیر ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ اوم برلا کے دور میں لوک سبھا کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔ تمام 78 خواتین ارکان کو بولنے کا موقع ملا، 14 زبانوں میں تقاریر ہوئیں اور پارلیمنٹ کے کئی عمل ڈیجیٹل اور پیپر لیس نظام کی طرف بڑھائے گئے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسے بولنے نہیں دیا جاتا، جبکہ یہ فیصلہ حکومت نہیں بلکہ اسپیکر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی آواز دبانے کی اصل مثال 1975 کی ایمرجنسی کے دوران دیکھنے کو ملی تھی، جب پورے اپوزیشن کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔
راہل گاندھی بولنا نہیں چاہتے یا قواعد سے بولنا نہیں جانتے: امت شاہ
امت شاہ نے کہا کہ کانگریس یہ الزام لگاتی ہے کہ اسے بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا، جبکہ اعداد و شمار اس کے برعکس ہیں۔ ان کے مطابق 17ویں لوک سبھا میں کانگریس کے 52 ارکان ہونے کے باوجود انہیں تقریباً 158 گھنٹے بولنے کا وقت ملا، جو بی جے پی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں لوک سبھا میں بھی کانگریس نے 78 گھنٹے تقریر کی، حالانکہ ان کے 99 ارکان ہیں، اور اس میں بھی بی جے پی کے مقابلے دوگنا وقت ملا۔امت شاہ نے حزبِ اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب بولنے کا موقع آتا ہے تو وہ اکثر جرمنی یا انگلینڈ میں ہوتے ہیں اور ایوان میں موجود نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش کی، لیکن اس پر اپوزیشن لیڈر نے بھی بات نہیں کی۔ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ انہیں بولنے نہیں دیا جاتا، بلکہ یا تو وہ بولنا نہیں چاہتے یا قواعد کے مطابق بولنا نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں قواعد کی پابندی ضروری ہے اور قواعد توڑ کر کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…