قومی

Pappu Yadav’s Bold Statement: ’’سبھی لوگ بکتے ہیں، خریدار ہونا چاہیے…‘‘، راجیہ سبھا الیکشن میں شکست پر پپو یادو کا بڑا بیان

نئی دہلی: بہار کی پورنیا لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو نے ریاست کی پانچ ریاست کی پانچ راجیہ سبھا سیٹوں پر مہاگٹھ بندھن کو شکست پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ ایم ایل ایز کو پیسہ دے کر خرید لیا گیا۔ پپو یادو نے کہا، ’’سب لوگ بکتے ہیں، بس خریدار ہونا چاہیے۔‘‘

بی جے پی پر تنقید

نئی دہلی میں آئی اے این ایس سے گفتگو میں رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے کہا کہ انتخابات جیتنے کے لیے بی جے پی کسی اصول کی پرواہ نہیں کرتی، لیکن ہم بھی بک رہے ہیں۔ انہوں نے آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو پر پارٹی قیادت کے ساتھ ہم آہنگی بنانے اور مشترکہ حکمت عملی بنانے میں ناکامی کا الزام بھی لگایا۔

مہاگٹھ بندھن کی حکمت

پپو یادو نے کہا کہ تیجسوی یادو کو سیاسی حالات کا علم تھا، مگر نہ تو انہوں نے کوئی میٹنگ بلائی اور نہ ہی کانگریس کے صوبائی صدر اور اہم لیڈران سے مشاورت کی۔ انہوں نے اسے فرض کی غفلت قرار دیا اور زور دیا کہ انتخابات سے پہلے ایک اجتماعی حکمت عملی بنائی جانی چاہیے تھی۔

ریاستی انتخابات کے نتائج

پیر کو ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں، قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے تمام پانچ نشستوں پر فتح حاصل کی، جس سے اپوزیشن اتحاد کو بڑا دھچکا لگا۔ ووٹنگ کے دوران مہاگٹھ بندھن کے چار ایم ایل ایز کی غیر حاضری نے نتائج کو کافی حد تک بدل دیا اور پلڑا این ڈی اے کے حق میں جھک گیا۔ فتح پانے والوں میں وزیراعلیٰ نیتیش کمار اور بی جے پی کے قومی صدر نتن نوبین کو 44-44 ووٹ ملے، جبکہ اوپن دیش کشواہا اور رام ناتھ ٹھاکر کو 42-42 ووٹ ملے۔

مہاگٹھ بندھن کی کوششیں ناکام

دوسری ترجیح کے ووٹوں کی گنتی کے بعد پانچویں نشست بھی بی جے پی کے امیدوار شیوش رام کی فتح کے ساتھ این ڈی اے کے حصے میں چلی گئی۔ مہاگٹھ بندھن نے اپنی حکمت عملی کے مطابق اسد الدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین کے پانچ ایم ایل ایز اور بی ایس پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کا تعاون حاصل کیا، لیکن کانگریس اور آر جے ڈی کے چار ایم ایل ایز ووٹنگ میں شریک نہ ہو سکے۔

دونوں رکن پارلیمنٹ کی وضاحت

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منوج وشواس نے بعد میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے بہار کانگریس کے صوبائی صدر کے ہدایت پر ووٹنگ سے خود کو الگ رکھا، کیونکہ انہیں امیدوار کے انتخاب پر اختلاف تھا۔ اسی طرح سورن دھر کشواہا نے قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پسماندہ، ذات پات یا مہادلت کمیونٹی سے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ ووٹنگ میں حاضر نہ ہو سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Census 2027 Centre Amends Rules: مردم شماری کے قواعد میں ترمیم، پرائیویٹ اسکولوں کے عملے پر کیا پڑے گا اثر؟

مرکزی حکومت نے مردم شماری کے قواعد 1990 میں ترمیم کرکے نجی اسکولوں کے اساتذہ…

20 minutes ago

India-Maldives Relations: ہندوستان نے مالدیپ کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی درخواست کو دی منظوری

ہندوستان نے مالدیپ حکومت کی 30 ارب روپے کی کرنسی سویپ سہولت میں توسیع کی…

32 minutes ago

Preeti Shekhar Slams Prashant Kishor: ’اپنی اوقات میں رہیے پرشانت کشور‘، بی جے پی کی جنرل سکریٹری پریتی شیکھر کا پی کے پر سخت حملہ

وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے متعلق بیان پر بہار کی سیاست گرم، ڈاکٹر پریتی شیکھر…

51 minutes ago

Mamata Banerjee’s statement: ابھجیت دیپکے کو حراست میں لیے جانے پر ممتا بنرجی بولیں، ’گھبراؤ مت، ابھی دیدی آپ کے ساتھ ہے‘

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس…

2 hours ago