قومی

Palestinian Solidarity March: نئی دہلی میں فلسطینی یکجہتی مارچ پرحملے کا الزام، مظاہرین نے دیا پرامن مزاحمت کا جواب

نئی دہلی: دہلی کے راجیوچوک کے نزدیک ایک پرامن فلسطینی یکجہتی مارچ کے دوران اچانک شدت پسند عناصرکے ایک گروپ پرحملہ کرنے کا الزام لگا ہے۔ اس مارچ کا اہتمام مختلف یونیورسٹیوں، کارکن تنظیموں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اورسماجی کارکنوں نے مشترکہ طورپرکیا تھا، جس کا مقصد غزہ اورفلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہاراوراسرائیلی جارحیت کے خلاف پرامن احتجاج کرنا تھا۔

تفصیلات کے مطابق، یہ مظاہرہ تقریباً دوپہر12:30 بجے شروع ہوا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطین کے جھنڈے، پوسٹراوربینرزاٹھا رکھے تھے، جن پر ’فلسطین آزاد ہو‘، ’غزہ زندہ ہے‘، اور’ظلم کے خلاف ہم ایک ہیں‘ جیسے نعرے درج تھے۔ یہ کارواں ریگل چوک سے چل کرکناٹ پیلس تک پہنچا، جہاں مظاہرین نے فلسطینی عوام پر ہورہے مظالم پرروشنی ڈالی اورعالمی برادری سے اسرائیلی جنگی جرائم پرکارروائی کا مطالبہ کیا۔ تاہم، آرگنائزروں کا الزام ہے کہ مظاہرے کے پُرامن اندازکے باوجود مقامی شدت پسند عناصرنے اچانک مارچ پرحملہ کردیا۔ ان عناصرنے مظاہرین کے ہاتھوں سے پوسٹراورجھنڈے چھیننے کی کوشش کی، بدزبانی کی اورخاتون مظاہرین کوہراساں کیا۔ ایک مظاہرہ کنندہ خاتون نے بتایا: “ہم پرامن طریقے سے کھڑے تھے، کہ اچانک کچھ مرد آگے بڑھے، گالی گلوچ کی اوردھکا دینے لگے۔ کئی خواتین کوالگ الگ نشانہ بنایا گیا۔”

مظاہرین نے ’ہم سب فلسطین ہیں‘ کا نعرہ لگا کریکجہتی کا دیا پیغام

پولیس نے مداخلت کرنے کے بجائے مظاہرین پرہی دباؤ ڈالنا شروع کردیا، جس پرمظاہرین نے شدید اعتراض کیا۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ایک طالب علم نے کہا، “جب ہم جنگ کے خلاف آوازبلند کرتے ہیں تو ہمیں ملک دشمن قراردیا جاتا ہے۔ ہم صرف انسانیت کی بات کررہے ہیں، فلسطینی بچوں کی بات کررہے ہیں۔” منتظمین نے بتایا کہ یہ مظاہرہ محض اسرائیلی جارحیت کے خلاف نہیں بلکہ انسانی حقوق، امن اورعالمی انصاف کے حق میں تھا۔ مارچ کے آخری مرحلے میں مظاہرین نے ’ہم سب فلسطین ہیں‘ کا نعرہ لگا کر یکجہتی کا پیغام دیا۔

بھارت سرکارسے بڑا مطالبہ

اس موقع پرمقررین نے بھارت سرکارسے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی مظالم کی کھل کرمذمت کرے اوراقوام متحدہ میں فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرے۔ اس مظاہرے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ اس کا مقام ‘ریگل چوک’ تھا، جو ایک علامتی عوامی جگہ ہے، جہاں عام لوگ، مزدور، طلبہ اور شہری روزانہ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ اس مقام کا انتخاب اسی مقصد سے کیا گیا تھا تاکہ احتجاج عام لوگوں تک براہِ راست پہنچے۔ مظاہرے کے اختتام پر منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا “ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اورکھڑے رہیں گے۔”

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Seema Kumari Claims Asian Games: ایشین گیمز میں سیما کماری نے 10,000 میٹر دوڑ میں کانسے کا تمغہ جیتا، وزیر اعظم مودی نے سراہا

تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…

2 hours ago

Mushtaq Khan Passed Away: ’ویلکم‘ فیم اداکار مشتاق خان کا انتقال، 56 سال کی عمر میں کینسر سے ہار گئے زندگی کی جنگ

معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…

3 hours ago

Nasha Mukt Punjab Yatra: نشہ مکت پنجاب یاترا، 30 ستمبر کو جالندھر میں امت شاہ کریں گے اختتامی پروگرام سے خطاب

بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…

4 hours ago

PK Party Announces Bihar MLC: پی کے کا بڑا قدم، نیرج کمار کے خلاف جن سوراج نے اتارا امیدوار، اننت سنگھ کی بھی حمایت

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…

5 hours ago