آپریشن سندور: 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام علاقے میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی کی۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً 2 بجے، ہندوستانی فوج نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے۔
فوج کے ذرائع کے مطابق ان میں سے چار ٹھکانے پاکستان کی سرحد کے اندر اور باقی پانچ پی او کے میں واقع تھے۔ سب سے بڑا حملہ بہاولپور میں ہوا جہاں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ کوٹلی اور مظفرآباد جیسے علاقوں کو بھی درست طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
پاکستانی میڈیا حملوں کی تصدیق کی
پاکستان کے ایک معروف نیوز چینل نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ چینل کی رپورٹ کے مطابق بہاولپور میں مسعود اظہر کے ٹھکانے پر چار میزائل داغے گئے جس کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ آگ کے شعلوں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں ایک بچہ ہلاک جب کہ چار دیگر زخمی ہوئے۔ پاکستانی فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تمام سڑکوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں دہشت کا ماحول
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک مقامی شخص نے دعویٰ کیا کہ لوگ رات کے وقت خوف کے مارے گھروں سے باہر نکل آئے۔ آسمان پر سرخ چمک دکھائی دے رہی تھی اور پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول تھا۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک پاکستانی کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں پاکستان انٹیلی جنس پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس ویڈیو میں پاکستانی نوجوان کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’بھارت نے مولانا مسعود صاحب کے مدرسے پر میزائل داغے ہیں، ہم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہماری ایجنسیاں کہاں سوئی ہوئی تھیں؟ جب یہ حملہ ہوا تو ہماری ایئر فورس کہاں سوئی ہوئی تھی؟ یہ حملہ مظفر آباد کی طرف بھی ہوا ہے، لیکن پہلے حملے میرے بہاولپور کے اندر ہوئے، تب ہماری فوج کہاں تھی؟ ایسے تناؤ بھرے ماحول میں حکومت کیا کر رہی تھی؟ فعال کیوں نہیں تھی؟‘‘یہ سارے سوالات ایک پاکستانی نوجوان نے اٹھائے ہیں۔
مسعود اظہر: بھارت کا اعلانیہ دشمن
مسعود اظہر نے بھارت کے خلاف کئی دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ وہ کالعدم تنظیم جیش محمد کا سربراہ ہے۔ 2019 میں پلوامہ میں خودکش حملہ ہوا، جس میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید ہوئے تھے۔ اسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری لی تھی۔ پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے میں بھی مسعود اظہر کا نام آیا تھا۔ 1999 میں قندھار طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں بھارت کو مسعود اظہر کو رہا کرنا پڑا تھا، جب انڈین ایئر لائنز کی پرواز IC-814 کو دہشت گردوں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔ اس کے بدلے مسعود اظہر سمیت تین دہشت گردوں کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ پاکستان واپس گیا اور وہاں سے دہشت گردی پھیلاتا رہا۔
اقوام متحدہ بھی اسے عالمی دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔
بھارت نے طویل عرصے تک کوشش کی کہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جائے۔ آخر کار 2019 میں اقوام متحدہ نے اسے عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔ اس کے باوجود وہ پاکستان میں آزاد گھومتا رہا۔ لیکن اب بھارتی فوج کے اس آپریشن نے اسے اور اس کی تنظیم کو بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ آپریشن سندور کے تحت میزائل حملے میں اس کے خاندان کے دس افراد اور چار قریبی مار گرائے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…