وزیر اعظم مودی۔ (فائل فوٹو)
مرکزی حکومت نے جمعرات، 8 مئی کو صبح 11 بجے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے تاکہ اپوزیشن کو “آپریشن سندور” کے حوالے سے آگاہ کیا جا سکے۔ اپوزیشن نے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد حکومت کے کسی بھی اقدام کی حمایت کی پیشکش کی ہے، جس میں 22 اپریل کو 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ میٹنگ اس وقت بلائی گئی ہے جب بھارتی مسلح افواج نے بدھ کی صبح پاکستان میں دہشت گردی کے اڈوں اور انفراسٹرکچر پر جوابی کارروائیاں کیں۔ حکومت کا مقصد اپوزیشن کو آپریشن سندور کی تمام پیش رفت سے باخبر رکھنا ہے۔
کانگریس پارٹی نے اس میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی کی توقع ظاہر کی ہے۔ کانگریس کے رہنما اور ترجمان جے رام رمیش نے پی ٹی آئی کو بتایا: “ہم نے 24 اپریل کو وزیراعظم سے اس میٹنگ میں شرکت کی درخواست کی تھی لیکن وہ شریک نہیں ہوئے؛ انہیں کم از کم کل کی آل پارٹی میٹنگ میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔”
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی بھارتی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے پریس بریفنگ میں کہا: “ہم اپنی افواج پر فخر کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (PoK) میں دہشت گرد کیمپوں کے خلاف جرات مندانہ اور فیصلہ کن کارروائی کی۔”
بدھ، 7 مئی کی صبح بھارتی مسلح افواج نے پاکستان اور PoK میں نو دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کابینہ کے وزیروں اور صدر دروپدی مرمو کو بھی بریفنگ دی ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی سرحدی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ (CMs) اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرلز (DGPs) کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی ہے۔
بھارتی فوج نے وضاحت کی ہے کہ نشانہ صرف دہشت گردوں کے اڈے تھے اور کوئی فوجی انفراسٹرکچر متاثر نہیں ہوا۔ فوج نے بہاولپور میں “سبحان اللہ کمپلیکس” پر دو بڑی کارروائیاں کیں، جو کہ جیشِ محمد (JeM) کا گڑھ ہے۔ ان حملوں میں جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے خاندان کے 10 افراد اور اس کے 4 ساتھی مارے گئے۔
پی ٹی آئی کے مطابق، ان کارروائیوں میں مسعود اظہر کی بیوی، بھانجا، بڑی بہن اور بہنوئی (جو اقوام متحدہ کا نامزد دہشت گرد تھا) بھی ہلاک ہوئے۔
پاکستان نے بھارت کی اس کارروائی کو جارحیت اور ایک سنگین فعل قرار دیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے، تاہم پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر بھارت کارروائی روک دے تو پاکستان پیچھے ہٹنے کو تیار ہے۔ خواجہ آصف نے بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا: “ہمیں اپنا دفاع کرنا ہے۔ یہ سب بھارت کی جانب سے شروع کیا گیا۔ اگر بھارت پیچھے ہٹتا ہے، تو ہم بھی یہ معاملہ ختم کریں گے۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم بھارت کے خلاف کسی جارحیت کی شروعات نہیں کریں گے، لیکن اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہم جواب ضرور دیں گے۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…