قومی

What is this Simla Agreement: پاکستان نے 1972 کے شملہ معاہدے کو معطل کر دیا، کیا ہے یہ شملہ معاہدہ؟ لائن آف کنٹرول پرکیا ہوگا اس کا اثر؟

جمعرات کے روز پاکستان نے 1972 کے تاریخی شملہ معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا، جو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہندوستان کی جانب سے سخت اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ 1971 کی بھارت-پاکستان جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

شملہ معاہدہ کیا ہے؟

2 جولائی 1972 کو ہندوستان کے شہر شملہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس وقت ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور خطے میں دیرپا امن کا قیام تھا۔

یہ معاہدہ اس اصول پر مبنی تھا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے اور کسی تیسرے فریق کو ثالثی کے لیے شامل نہیں کریں گے۔

معاہدے کی اہم شقیں:

اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق دونوں ممالک اپنے تعلقات کو استوار کریں گے۔

دونوں ممالک باہمی مذاکرات یا متفقہ پرامن ذرائع سے تنازعات حل کریں گے۔

کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر سرحدی صورتحال تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کی پابندی کریں گے۔

لائن آف کنٹرول (LoC) پر اثرات:

شملہ معاہدے کے تحت 1971 کی جنگ کے بعد قائم ہونے والی جنگ بندی لائن کو “لائن آف کنٹرول” کا درجہ دیا گیا۔ معاہدے کے مطابق، کوئی بھی فریق اس لائن کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

معاہدے کی معطلی کے بعد LoC پر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اب اس معاہدے کی وہ شقیں جو دوطرفہ جنگ بندی اور سرحدی احترام کی ضامن تھیں، غیر مؤثر ہو سکتی ہیں۔

معاہدے کی معطلی کیوں اہم ہے؟

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر بھارت کی جانب سے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، جس کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تھی۔

شملہ معاہدے کی معطلی سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان اب مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ، چین یا اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جیسے تیسرے فریق کی مداخلت چاہتا ہے، جو شملہ معاہدے کے برعکس ہے۔

مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے؟

اگرچہ اس اقدام کے فوری فوجی اثرات نہیں ہوں گے، تاہم اس سے سفارتی کشیدگی اور عسکری کشمکش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ اقدام جنوبی ایشیا میں استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے اس اعلان پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیاہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Plea on Delhi Pollution: دہلی میں فضائی آلودگی پر سپریم کورٹ کا طنزیہ تبصرہ، کہا-’’امید ہے آپ موسم کا لطف اٹھا رہے ہوں گے‘‘

عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…

52 minutes ago

Amit Shah launches Mission Uttarakhand: امت شاہ نے ’مشن اتراکھنڈ‘ کا کیا آغاز، مسلسل تیسری بار بی جے پی حکومت بنانے کے لیے 65 سے زیادہ سیٹوں کا ہدف

اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…

1 hour ago

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

1 hour ago

Supreme Court refuses suspend Tarun Tejpal 10 Year Sentence: ترون تیج پال کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا، 10 سال کی سزا پر روک لگانے سے انکار

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…

2 hours ago