وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے ہندوستان کے ساتھ ’’بامعنی مذاکرات‘‘ میں شامل ہونے کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق ان کا یہ تبصرہ وزیراعظم ہاؤس میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کے دوران آیا۔ دونوں لیڈروں نے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والی علاقائی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان جاری دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’وزیراعظم نے حالیہ پاک-ہند تعطل کے دوران کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کرنے میں برطانیہ کے کردار کی تعریف کی اور تمام حل طلب معاملات پر ہندوستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔‘‘
واضح رہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں ہندوستان کی طرف سے 7 مئی کو پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے آپریشن سندور کے سبب کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں چار دن تک جھڑپیں ہوئیں، جو 10 مئی کو جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ختم ہوئیں۔
تاہم ہندوستان کا موقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت دہشت گردی اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی واپسی تک محدود ہونی چاہیے۔ پاکستان اور برطانیہ تعلقات کے موضوع پر شہباز شریف نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات میں مثبت رفتار ہے اور حالیہ تجارتی مذاکرات کا خیرمقدم ہے جو کہ باہمی طور پر فائدہ مند مواقع کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی برطانیہ سے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے حکومت برطانیہ کے فیصلے کی بھی تعریف کی اور اسے ایک ایسا قدم قرار دیا جس سے برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے لیے سفری چیلنجوں میں کمی آئے گی اور لوگوں کے درمیان تبادلے کو فروغ ملے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
احتجاج سے قبل 2 اکتوبر کی صبح ابھجیت دیپکے باندرہ اسٹیشن پر چائے پیتے بھی…
گاندھی جینتی پر پی ایم مودی نے راج گھاٹ پہنچ کر باپو کو خراج عقیدت…
سابق شوہر اور ریپر بادشاہ کے ساتھ اپنا نام جوڑے جانے اور اپنی عوامی شبیہ…
آئی ایم ڈی نے 2 سے 7 اکتوبر 2026 کے دوران ملک کے کئی حصوں…
پرنو اڈانی نے مہاراشٹر کو ملک کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل قرار دیتے ہوئے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ جب تک انسانیت کے…