پہلگام دہشت گردانہ حملے کے مہلوکین کو جموں وکشمیر اسمبلی میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے 26 افراد کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جموں وکشمیراسمبلی نے آج کچھ لمحے کے لئے خاموشی اختیارکی۔ اسمبلی میں آج پیرکے روش جیسے ہی ایوان کا خصوصی سیشن شروع ہوا، اسمبلی اسیپکرعبدالرحیم راٹھیرنے پہلگام دہشت گردانہ حملے میں بے قصورسیاحوں کا بے رحمانہ قتل کئے جانے کی مذمت کی۔
جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران اس حملے میں مارے گئے سبھی 26 سیاحوں کے نام لئے۔ انہوں نے کہا کہ شمال سے لے کرجنوب تک اورمشرق سے لے کرمغرب تک، اروناچل سے لے کرگجرات تک، جموں وکشمیرسے کیرلا تک اوربیچ کی تمام ریاستیں پورا ملک اس حملے کی لپیٹ میں آیا ہے۔ جموں وکشمیرمیں یہ پہلا حملہ نہیں ہے، لیکن درمیان کا ایک ایسا وقت آیا تھا کہ یہ حملے رک گئے تھے۔ اسی کے بعد پہلگام کا یہ حملہ 21 سال کے بعد اتنا بڑا حملہ ہوا ہے۔
اسپیکرعبدالرحیم راٹھیر نے کہا، ’’ہم دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے لوگوں کوخراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ان اہل خانہ کے تئیں اظہارہمدردی بھی کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے اہل خانہ کو کھودیا۔“ اس کے بعد اسپیکرنے اعلان کیا کہ ایوان اس وحشیانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک لمحے کی خاموشی اختیارکرے گا۔
وحشیانہ اورغیرانسانی حملے سے گہرا صدمہ پہنچا
اس کے بعد مرکز کے زیرانتظام ریاست کے نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے حکومت کی طرف سے ایک تجویزپیش کی گئی، جس میں پہلگام میں سیاحوں پرہوئے وحشیانہ اور غیرانسانی حملے سے متعلق گہرا صدمہ پہنچا اورافسوس کا اظہارکیا۔ آپ کوبتا دیں کہ گزشتہ ہفتے 22 اپریل کواننت ناگ ضلع کے پہلے گام کے اوپری علاقوں میں منی سوئٹرزلینڈ کے نام سے مشہوربیسرن میں دہشت گردوں نے گولی باری کی، جس میں 26 لوگ مارے گئے۔ مہلوکین میں بیشتردوسری ریاستوں سے آئے ہوئے سیاح تھے۔
ابھی بات چیت کا کوئی مطلب: کانگریس لیڈر غلام احمد میر کا بڑا بیان
کانگریس لیڈرغلام احمد میرنے ایوان کے باہرکہا، ”صورتحال اورحادثہ کی سنجیدگی نے ہم سبھی کوجھنکجھورکررکھ دیا ہے۔ یہ صرف ایک طبقے کی بات نہیں ہے۔ ابھی کوئی بھی قدم مناسب نہیں ہوگا۔ یہ حادثات کئی بارہوچکے ہیں اوراب ملک اس کے خلاف ٹھوس قدم چاہتا ہے۔ ابھی بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔“
دہشت گردانہ حملے پرنیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویرصادق نے کہا، ”مجھے لگتا ہے کہ ملک میں ہماری پہلی اسمبلی ہے، جواس حادثہ کی مذمت کرتے ہوئے تجویزلا رہی ہے۔ کشمیری اورکشمیری مسلمان دشمن نہیں ہیں۔ پورے ملک کوکشمیرکے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ انہیں (دہشت گردوں کو) پکڑنا اورسلاخوں کے پیچھے ڈالنا ہمارا اختیارہے۔“
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…