نئی دہلی: مرکزی کابینہ نے ہفتہ کے روز ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے لیے مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) اور پنشنرز کے لیے ڈیئرنیس ریلیف (ڈی آر) میں 2 فیصد اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس سے ملک بھر کے لاکھوں افراد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کابینہ کے فیصلوں کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس اضافے سے 50 لاکھ سے زائد مرکزی سرکاری ملازمین اور تقریباً 68 لاکھ پنشنرز مستفید ہوں گے۔
ڈی اے اور ڈی آر میں اضافہ
حکومت کے فیصلے کے مطابق، مہنگائی الاؤنس اور ڈیئرنیس ریلیف کو موجودہ 58 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ فیصلہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بڑی راحت ثابت ہوگا اور ان کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مرکزی حکومت کے خزانے پر سالانہ تقریباً 6,791 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ یہ قدم عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس فیصلے سے 50 لاکھ سے زیادہ ملازمین اور 68 لاکھ سے زائد پنشنرز کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، جس سے مجموعی طور پر ایک بڑی آبادی کی خریداری صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔
ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کے مطابق فیصلہ
حکام کے مطابق، ڈی اے اور ڈی آر میں یہ اضافہ ساتواں مرکزی پے کمیشن کی سفارشات کے مطابق کیا گیا ہے، جس میں مہنگائی کے اشاریے کو مدنظر رکھتے ہوئے وقتاً فوقتاً الاؤنس میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو مالی راحت ملے گی بلکہ اس کے مثبت اثرات معیشت پر بھی پڑیں گے، کیونکہ صارفین کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوگا اور مارکیٹ میں مانگ بڑھے گی۔ حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس فیصلے کو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 121ویں سالانہ اجلاس میں نئی قیادت…
علاقائی سلامتی، دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم سے نمٹنے کے لیے…
کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازنے کے بعد جنرل دھیرج سیٹھ نے کہا، ’’آج کا دن…
مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات…
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود…
ممبئی کے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ نے ایک اہم مرحلہ طے کرلیا ہے۔ ماٹونگا میں…