قومی

PM Kusum Scheme: پی ایم کُسم اسکیم سے 30 لاکھ سے زائد کسانوں کو فائدہ، سولر پمپ سے سالانہ ایک لاکھ روپے کی بچت: وزیر اعظم مودی

نوزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ پی ایم کُسم اسکیم سے ملک بھر میں 30 لاکھ سے زائد کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے ہر کسان سولر پمپ کے استعمال سے سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت کر رہا ہے۔ قومی دارالحکومت کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ’بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہی اجلاس‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے گزشتہ 12 برسوں میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کی ہے اور صنعتوں، کھیتوں اور گھروں کو شمسی توانائی سے جوڑا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’ملک بھر کے کسان پی ایم کُسم اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس پہل کے تحت 30 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والی آبپاشی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اندازہ ہے کہ سولر پمپ استعمال کرکے ہر کسان سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی بچت کر رہا ہے۔‘‘

سرکاری عمارتوں کو بھی شمسی توانائی سے جوڑنے کا ہدف

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک کے صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید وسعت دینا ہے۔ اس کے تحت تمام سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور اسٹریٹ لائٹنگ نظام کو شمسی توانائی سے جوڑنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ 12 برسوں میں ہم نے صنعتوں اور کھیتوں کو شمسی توانائی سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔ ملک بھر میں 44 ہزار سے زیادہ سرکاری عمارتیں اب شمسی توانائی سے منسلک ہوچکی ہیں، جس سے سالانہ تقریباً 700 کروڑ روپے کی بچت ہورہی ہے۔‘‘

پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم کا بھی ذکر

وزیر اعظم نے ’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم‘ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ فروری 2024 میں شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد ایک کروڑ گھروں کی چھتوں پر سولر پینل نصب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ 24 سے 25 ماہ کے دوران 65 لاکھ سے زیادہ خاندان اس پہل سے جڑ چکے ہیں۔‘‘

مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے حاصل کیا ہدف

عالمی ماحولیاتی اہداف کے تئیں ہندوستان کے عزم کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک نے 2025 میں ہی اپنی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف پورا کرلیا ہے۔ یہ کامیابی پیرس معاہدے کے تحت مقررہ مدت سے پانچ سال پہلے حاصل کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’پیرس معاہدے کے تحت ہندوستان نے اپنی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے پورا کرنے کا عزم کیا تھا۔ ہم نے 2025 میں ہی، مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے، یہ ہدف حاصل کرلیا۔ آج ہندوستان کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Bike Sharing System Launched: وزیر اعظم مودی کے ’فٹ انڈیا‘ عزم کے تحت وارانسی میں بائیک شیئرنگ نظام کا آغاز

فٹنس اور ماحول دوست آمدورفت کو فروغ دینے کے لیے شہر کے اہم مقامات پر…

53 minutes ago

Agate Stone Artwork: قدرتی عقیق کے پتھروں سے تیار ’اسٹیچو آف یونٹی‘،وزیر اعظم مودی کو پسند آیا شاہینہ گاندھی کا تحفہ

گجرات کے وڈودرا کی فنکارہ شاہینہ گاندھی نے قدرتی عقیق کے پتھروں سے قومی یومِ…

2 hours ago

Bihar Politics: موکاما کے ’چھوٹے سرکار‘ اننت سنگھ کی رکنیت پر خطرہ، 7 دن میں جواب دینے کا نوٹس

پارٹی مخالف سرگرمیوں اور ایم ایل سی انتخابات میں باغیانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات…

2 hours ago