قومی

Narela open drain accident: دہلی میں  ڈی ڈی اے کی مبینہ لاپروائی، کھلے نالے میں گرنے سے نوجوان کی ہوئی موت

نئی دہلی : دارالحکومت دہلی کے نریلا علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔ نریلا سیکٹر اے-5، پاکٹ-4 میں واقع ایک کھلے نالے میں گرنے سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ نوجوان پوری رات نالے میں پڑا رہا، لیکن اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے اور اندھیرے کے باعث کسی کو اس کی اطلاع نہ مل سکی۔ جمعہ کی صبح جب مقامی افراد نے نالے میں لاش دیکھی تو علاقے میں ہلچل مچ گئی۔اطلاع ملنے پر دہلی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو نالے سے نکال کر قبضے میں لے لیا۔ متوفی کی شناخت سورج، ساکن نریلا سیکٹر اے-5، پاکٹ-4 کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے فرانزک ٹیم کے ساتھ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھا کیے۔ بعد ازاں لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال کی مردہ خانے (مارچری) منتقل کر دیا گیا۔

اندھیرا اور مبینہ غفلت حادثے کی وجہ بنے

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ نالہ کافی عرصے سے بغیر ڈھکن کے کھلا اور غیر محفوظ حالت میں موجود ہے۔ ان کے مطابق جمعرات کی رات سورج وہاں سے گزر رہا تھا کہ اندھیرے اور اسٹریٹ لائٹس کی عدم موجودگی کے باعث اسے کھلا نالہ دکھائی نہ دیا اور وہ اس میں جا گرا۔ وہ پوری رات نالے میں پھنسا رہا، لیکن کسی کو اس کا علم نہ ہو سکا، جس کے باعث اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔

اہل خانہ نے انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے

متوفی کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر شدید لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ سورج کی بھابھی ریتو نے کہا کہ اگر نالہ ڈھکا ہوتا یا یہاں روشنی کا مناسب انتظام ہوتا تو آج ان کا خاندان اس سانحے کا شکار نہ ہوتا۔ متوفی کے بھائی دھیرو نے بھی ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کھلے نالے کے حوالے سے متعدد بار متعلقہ محکمے کو شکایات دی گئیں، لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی کئی بچے اور مویشی اس نالے میں گر چکے ہیں، تاہم مستقل حل کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں

واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگ انتظامیہ کو اس حادثے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فوری کارروائی اور کھلے نالے کو ڈھکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس نے مقدمے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ کی تصدیق کی جائے گی۔یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر شہری بنیادی ڈھانچے کی خامیوں اور متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو ایک جدید زبان ہے، اے آئی سے مستقبل مزید مضبوط ہوگا، بزمِ صحافت میں بولے پروفیسر شاہد صدیقی

پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…

24 minutes ago

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

43 minutes ago

Dr Shams Iqbal: جام جہاں نما سے 2047 کے وژن تک! بھارت ایکسپریس کےبزمِ صحافت میں بولے ڈاکٹر شمس اقبال، ٹیکنالوجی ہی اردو کا مستقبل

ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…

59 minutes ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

2 hours ago