نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو خصوصی پارلیمانی اجلاس کے آغاز سے چند گھنٹے قبل کہا کہ ملک خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک ’’تاریخی قدم‘‘ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ماؤں اور بہنوں کا احترام دراصل قوم کا احترام ہے، اور اسی جذبے کے ساتھ حکومت خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے سے متعلق اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں، جو ملک کی سیاسی اور سماجی ساخت میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔
خواتین ریزرویشن پر حکومت کی پیش رفت
مرکزی حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کو تیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ناری شکتی وندن ادھینیم 2023 کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ترمیمی اقدامات زیر غور ہیں۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ 2029 کے عام انتخابات سے قبل خواتین کو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خاطر خواہ نمائندگی فراہم کی جائے۔ اس کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر تقریباً 850 کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس میں ریاستوں کے لیے 815 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 35 نشستیں شامل ہوں گی۔ یہ اقدام ملک میں سیاسی شمولیت کو وسعت دینے اور خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر کردار دینے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اپوزیشن کے تحفظات اور راہل گاندھی کا ردعمل
دوسری جانب اپوزیشن نے حکومت کے اس اقدام پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس خواتین ریزرویشن کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن وہ اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ او بی سی، دلت اور آدیواسی طبقات کے حقوق کو نظر انداز کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مردم شماری اور ذات پر مبنی ڈیٹا کو نظر انداز کرتے ہوئے حلقہ بندی (ڈیلمیٹیشن) کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق، اس عمل سے مختلف ریاستوں، خاص طور پر جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں کے ساتھ ناانصافی ہو سکتی ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو اسے پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کرانی چاہیے اور اسی بنیاد پر نمائندگی کا تعین کرنا چاہیے۔
ڈیلمیٹیشن تنازع اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ
حکومت کی جانب سے حلقہ بندی کے عمل کو 2027 کی مردم شماری سے الگ کرنے کی تجویز نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ایم کے اسٹالن نے مجوزہ ڈیلمیٹیشن بل کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی کاپی نذر آتش کی اور ریاست بھر میں احتجاجی مہم شروع کی۔ ادھر حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات ملک میں بہتر نمائندگی اور مؤثر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور دیگر اہم آئینی و سیاسی امور پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ اس اجلاس کو ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے حوالے سے بڑے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…